ذرائع کے مطابق اطلاعات ہیں کہ بے گناہ پاکستانی، بالخصوص کشمیری، جو غلطی سے سرحد پار کر گئے، انہیں انڈین سیکیورٹی فورسز زبردستی استعمال کر سکتی ہیں، جب کہ سینکڑوں بے گناہ پاکستانی، جن میں کشمیری بھی شامل ہیں، اس وقت انڈین جیلوں میں قید ہیں۔

مصدقہ اطلاعات کے مطابق ان میں سے چند بے گناہ افراد کو انڈین فوج مذموم مقاصد کے لیے مختلف جیلوں سے نکال کر اکٹھا کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان بے گناہ پاکستانیوں کے ساتھ انڈین جیلوں میں قید چند انڈین شہریوں کو بھی اس مبینہ سازش میں استعمال کیے جانے کی اطلاعات ہیں تاکہ ڈرامے کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق ان بے گناہ قیدیوں کو جلد ہی فالس فلیگ آپریشن کے ذریعے گودی میڈیا اور سبرامنیم جے شنکر کی جانب سے پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انڈیا سفارتی میدان میں ہزیمت کی خفت مٹانے اور پاکستان سے توجہ ہٹانے کے لیے ایک فرسودہ اور گھسا پٹا ڈرامہ رچا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ انڈین خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ اور وزیر خارجہ جے شنکر نے اس مبینہ منصوبے کو ترتیب دیا ہے، جب کہ دنیا انڈیا کی ان مبینہ چالاکیوں، الزامات اور گھسے پٹے بیانیے سے پہلے ہی تنگ آ چکی ہے اور اب ایسے بیانیے کی کوئی خاص وقعت نہیں رہی۔

ذرائع کے مطابق پلوامہ حملہ کے بعد پہلگام واقعے کو بھی ایک سال گزرنے کے باوجود انڈیا اب تک اپنے الزامات کے شواہد پیش نہیں کر سکا۔ اسی طرح ان فالس فلیگ آپریشنز کے حوالے سے بھی انڈیا یہ واضح نہیں کر سکا کہ ان میں کون لوگ ملوث تھے اور وہ کہاں سے آئے تھے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ بے گناہ پاکستانی قیدیوں کو استعمال کرتے ہوئے میڈیا کے سامنے پیش کیا جانے والا ایک اور پراپیگنڈا بھی بری طرح ناکام ہو سکتا ہے۔