معرکۂ حق کی فتح کا ایک سال مکمل ہونے پر قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کامیابی کے بعد دنیا آج پاکستان کو ایک سنجیدہ اور مضبوط ملک کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ ان کے بقول معرکۂ حق قومی عزم، جذبے اور وژن کی علامت ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو سینٹر آف پاکستان اینڈ انٹرنیشنل ریلیشنز کے زیر اہتمام معرکۂ حق سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ بیانیے کی جنگ میں حقائق اور سچائی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ انڈین حکومت نے سچائی کے خوف سے پاکستانی یوٹیوب چینلز پر پابندیاں عائد کیں، تاہم پاکستان نے انڈین چینلز پر پابندی لگانے کے بجائے اپنی ڈیجیٹل حکمت عملی تبدیل کی۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستانی ٹیم نے انڈین مقامات کو جیو ٹیگ کر کے وہاں کے صارفین تک پاکستانی ملی نغمے، ترانے اور جے ایف-17 تھنڈر طیاروں کی ویڈیوز پہنچائیں، جس کے نتیجے میں انڈین عوام اپنی حکومت سے سوال کرنے پر مجبور ہو گئے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پہلگام واقعے کے بعد پاکستانی اور بین الاقوامی صحافیوں کے ایک وفد کو بیلا نور شاہ کے اس علاقے کا دورہ کرایا گیا جہاں انڈیا نے دہشت گردوں کے کیمپ موجود ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو عین اسی مقام پر لے جایا گیا تاکہ دنیا کو دکھایا جا سکے کہ وہاں معمولاتِ زندگی مکمل طور پر معمول کے مطابق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس دورے کے ذریعے انڈین پروپیگنڈے کو بے نقاب کیا گیا۔ ان کے مطابق یہ دورہ اس قدر مؤثر ثابت ہوا کہ اگلے روز مریدکے اور بہاولپور کے دورے کا منصوبہ بنایا گیا، جہاں انڈیا نے دہشت گرد سرگرمیوں کے الزامات عائد کیے تھے، تاہم اس دورے سے قبل ہی انڈیا نے بزدلانہ حملہ کر دیا۔

عطا تارڑ نے کہا کہ انڈیا کی جارحیت کی بنیاد پروپیگنڈے اور من گھڑت کہانیوں پر قائم تھی۔ انہوں نے کہا کہ اسٹریٹیجک بیانیے کے محاذ پر درست معلومات کو درست وقت پر اور درست سامعین تک پہنچانا انتہائی اہم ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انڈیا ماضی میں بھی متعدد فالس فلیگ آپریشنز کر چکا ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ ایسے واقعات کو پاکستان کے خلاف جارحیت کے جواز کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ قیامِ پاکستان کو تقریباً آٹھ دہائیاں گزر چکی ہیں، لیکن انڈیا آج بھی دو قومی نظریے کی حقیقت کو دل سے تسلیم نہیں کر سکا۔پاکستان ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہا ہے جبکہ نظریۂ پاکستان اور دو قومی نظریہ بھی مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انڈیا میں ہندوتوا نظریے کے بڑھتے ہوئے اثرات واضح ہیں اور وہاں اقلیتوں پر مظالم بھی دنیا کے سامنے ہیں۔ انڈیا ہمیشہ اپنے داخلی مسائل کو بیرونی رنگ دینے اور بیرونی معاملات کو داخلی مسئلہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔

عطا تارڑ نے کہا کہ دہشت گردی انڈیا کا داخلی مسئلہ ہے، جب کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی تنازع ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں استصوابِ رائے ہونا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ انڈیا نے ہمیشہ جھوٹے بیانیے اور گمراہ کن پروپیگنڈے کا سہارا لیا۔ ان کے مطابق سرحد پار جارحیت، مختلف ممالک میں ٹارگٹ کلنگ اور قتل کی کارروائیاں انڈیا کی مخصوص سوچ اور پالیسی کی عکاسی کرتی ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ہردیپ سنگھ نجر کا کینیڈا میں قتل ہو یا امریکا اور برطانیہ میں ہونے والی ٹارگٹ کارروائیاں، یہ کسی انفرادی عمل کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک مخصوص نظریے کی عکاسی ہیں۔