آئی ایس پی آر کے جاری کردہ بیان کے مطابق آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی زیرِ صدارت 272ویں کور کمانڈرز کانفرنس میں واضح کیا گیا کہ انڈیا کی کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن اور فوری جواب دیا جائے گا۔
پاک فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے کے مطابق کور کمانڈرز کانفرنس نے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اعلامیے کے مطابق کانفرنس کے شرکا نے غیرملکی سرپرستی میں چلنے والے دہشت گرد نیٹ ورکس کے خاتمے کا بھی عزم ظاہر کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کانفرنس کے دوران آرمی چیف نے غیرملکی حمایت یافتہ سپانسرڈ دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں پاک فوج کے جذبے، عزم اور حوصلے کی تعریف کی اور سیلابی صورتحال میں امدادی و بحالی سرگرمیوں میں فوج کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کور کمانڈرز کانفرنس میں انسدادِ دہشت گردی کی جاری کارروائیوں، درپیش خطرات اور آپریشنل تیاریوں کا جامع جائزہ لیا گیا اور توثیق کی گئی کہ مسلح افواج تمام شعبوں میں پاکستان کے دشمنوں کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ سیاسی سرپرستی میں کی جانے والی دہشت گردی اور جرائم کے درمیان موجودہ گٹھ جوڑ، جو ریاستی مفادات اور عوام کی سلامتی کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے، مزید جاری نہیں رہنے دیا جائے گا۔
Field Marshal Syed Asim Munir, NI (M), HJ, Chief of Army Staff (COAS), presided over the 272nd Corps Commanders’ Conference (CCC) held at General Headquarters (GHQ), Rawalpindi.
— PTV News (@PTVNewsOfficial) October 8, 2025
The Forum commenced with Fateha for the martyrs of recent terrorist attacks orchestrated by Indian… pic.twitter.com/SufzV58EmZ
کانفرنس میں انڈین سول اور عسکری قیادت کے حالیہ غیر ذمہ دارانہ اور بلاجواز اشتعال انگیز بیانات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ اس قسم کی زبان بازی سیاسی فائدے کے لیے جنگی جنون کو ہوا دینے کی عکاس ہے۔
شرکا نے متفقہ طور پر کہا کہ غیر ضروری کشیدگی میں اضافے سے علاقائی امن و سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہوں گے۔
کور کمانڈرز کانفرنس میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے کو تاریخی سنگِ میل قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ یہ معاہدہ دوطرفہ باہمی احترام، مشترکہ اقدار کی عکاسی کرتا ہے اور خطے کے امن و استحکام کے مشترکہ وژن کی ترجمانی کرتا ہے۔
فورم نے پاکستان کا اصولی موقف دہرایا کہ مسئلۂ فلسطین کا حل صرف دو ریاستی فارمولے میں ہے: 1967ء سے قبل کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہونا چاہیے اور القدس اس کی دارالحکومت ہو۔






