صدر مملکت کی آمد پر بگل بجا کر انہیں سلامی دی گئی۔ گورنر گلگت بلتستان اور وزیراعلیٰ حاجی گلبر خان نے صدر آصف علی زرداری کا استقبال کیا۔ تقریب میں سول و عسکری حکام، عوامی نمائندے اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
صدر زرداری نے اپنے خطاب میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی وقت کی ضرورت ہے، انڈیا میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر مظالم جاری ہیں۔ گلگت بلتستان کے عوام نے یکم نومبر 1947 کو عظیم قربانیاں دے کر آزادی حاصل کی، آزادی کی جنگ لڑنے والے شہداء کو سلام پیش کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام تعلیم، صحت اور ترقی میں ملک کے شانہ بشانہ ہیں، یہ علاقہ سیاحت کے لحاظ سے پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہے اور معدنیات سے مالا مال ہے۔ 1947 میں گلگت بلتستان کے لوگوں نے خود آزادی حاصل کرکے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا، اس جدوجہد میں 1700 جوان شہید اور 30 ہزار زخمی ہوئے۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کی محبت دیکھ کر دل خوش ہو گیا ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے یہ میرا گھر ہے اور آپ سب میرے پڑوسی ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے ادوار میں جی بی کے عوام کو ہمیشہ اختیارات دیے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے ایف سی آر کا خاتمہ کیا، شہید بے نظیر بھٹو نے سول حکومت کا ڈھانچہ دیا اور 2008 میں ہماری حکومت نے قانون ساز اسمبلی کا تحفہ دیا۔
صدر مملکت نے کہا کہ گلگت بلتستان میں بے پناہ قدرتی وسائل موجود ہیں، یہاں کے پانی سے بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ سیاحت کے فروغ کے لیے گلگت بلتستان کی اپنی ایئرلائن قائم کی جا سکتی ہے تاکہ ملکی و غیر ملکی سیاح آسانی سے یہاں آ سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ پہاڑ ہمارا سرمایہ ہیں، کوئی رکاوٹ نہیں۔ ہمیں ان وسائل کو عوامی ترقی کے لیے استعمال کرنا ہوگا۔
صدر زرداری نے بھارت میں اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کی شدید مذمت کی اور کہا کہ آج ہمیں قائداعظم اور علامہ اقبال کی دوراندیشی کا احساس ہوتا ہے جنہوں نے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن حاصل کیا۔
انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرانے کے لیے کردار ادا کرے۔
شہید ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر آج تک، پیپلز پارٹی نے ہمیشہ گلگت بلتستان کے عوام سے محبت اور خدمت کا رشتہ نبھایا ہے۔ ایف سی آر کا خاتمہ،حکومتی نظام، قانون ساز اسمبلی،وزیرِ اعلیٰ، گورنر اور عدالتیں - یہ سب عوامی اختیار کا سفر ہے۔ تعلیم، صحت اور ترقی ہی ہماری ترجیح ہے۔
— Umar Aziz (@umaraziz2k7) November 1, 2025
صدر پاکستان pic.twitter.com/BclgY0QiRB
تقریب میں وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر خان نے صدر مملکت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے 72 ہزار مربع میل رقبے کو ڈوگروں سے بغیر کسی بیرونی مدد کے آزاد کرایا اور کلمے کی بنیاد پر پاکستان کے ساتھ الحاق کیا۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان شہداء کی سرزمین ہے، جہاں کے سپوتوں نے پاک فورسز میں جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
وزیراعلیٰ نے صدر زرداری کے 2009 کے خودمختاری فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جی بی کو مرکزی دھارے میں شامل کرنا عوام کا دیرینہ خواب ہے۔ آزادی کے حقیقی معنوں کے مطابق ترقی ہمارا ہدف ہے
قبل ازیں یومِ آزادی کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں وزیراعلیٰ گلبر خان نے کہا کہ ہمارے آباؤ اجداد نے ایمان، اتحاد اور قربانی سے اس خطے کو آزاد کرایا۔ آج بھی ہمیں اسی جذبے کے ساتھ دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنانا ہوگا، تاکہ ایک مضبوط اور خودمختار گلگت بلتستان تشکیل پا سکے۔ شہداء اور غازیوں کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔







