فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری)، ہلالِ جرات، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کی زیر صدارت ہونے والی کانفرنس میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات، ملکی سلامتی، آپریشنل تیاریوں اور خطے کی مجموعی صورتحال کا مفصل جائزہ لیا گیا۔

کانفرنس کے شرکاء نے مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہونے والے شہریوں کے لیے فاتحہ خوانی کی اور وطن کے دفاع میں جان قربان کرنے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

آرمی چیف نے افواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ مہارت، جرات اور حالیہ مہینوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی جانے والی انسداد دہشت گردی کارروائیوں میں اُن کی پُرعزم کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت، فوج اور عوام کی یکجہتی کے باعث پاکستان بتدریج استحکام اور ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے۔

فورم نے ملک کے اندرونی و بیرونی سیکیورٹی چیلنجز کا جائزہ لیتے ہوئے آپریشنل تیاریوں پر زور دیا اور دہشت گردی، جرائم اور سیاسی مفادات کے گٹھ جوڑ کو یکسر مسترد کر دیا۔

شرکاء نے کہا کہ قومی یکجہتی، امن اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی، چاہے وہ عناصر سیاسی ہوں یا کوئی اور۔

فورم نے بلوچستان حکومت کے خصوصی ترقیاتی اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات مقامی آبادی کو بااختیار بناتے ہیں اور گورننس سے جڑے دہشت گردی کے عوامل کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس طرز کے عوامی اقدامات کو دیگر علاقوں میں بھی ضروری قرار دیا گیا۔

شرکاء نے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت اور فلسطین کے مسئلے پر پاکستان کے اصولی مؤقف کی توثیق کی، جب کہ غزہ میں فوری جنگ بندی اور انسانی امداد کی بلا روک ٹوک رسائی کا مطالبہ کیاگیا۔

کانفرنس کے اختتام پر آرمی چیف نے تمام کمانڈرز کو آپریشنل تیاری، نظم و ضبط، تربیت، جسمانی فٹنس، جدید جنگی مہارتوں اور پروفیشنلزم کے اعلیٰ معیار برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے پاک فوج کی صلاحیت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فوج روایتی اور غیر روایتی، ہائبرڈ اور غیر متناسب تمام خطرات کا مؤثر طور پر مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے