انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے حوالے سے تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ فعال سفارتی رابطے میں ہے۔ اس عمل کی قیادت وزیر اعظم شہباز شریف کر رہے ہیں جبکہ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی اس سفارتی کوشش میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔ ترجمان کے مطابق پاکستان خلوص نیت کے ساتھ فریقین کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہا ہے اور تمام ممالک کو مذاکرات کی میز پر واپس آنا چاہیے تاکہ تنازع کا پرامن حل نکالا جا سکے۔

طاہر اندرابی نے کہا کہ موجودہ صورتحال انتہائی حساس اور نازک ہے، اس لیے اس میں رازداری کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے غیر مصدقہ میڈیا رپورٹس پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی خبروں سے گریز کیا جانا چاہیے جو صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان علاقائی اور عالمی سطح پر مختلف ممالک سے مسلسل رابطے میں ہے اور امن کے قیام کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ سعودی عرب کو بھی اس معاملے میں ایک اہم فریق قرار دیا گیا ہے۔

بھارت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ سری نگر کی تاریخی جامع مسجد کو گزشتہ سات سال سے بند رکھنا مذہبی آزادی کی کھلی خلاف ورزی ہے، اور رواں رمضان اور عید کے موقع پر بھی اسے نہیں کھولا گیا۔ انہوں نے کشمیری رہنما آسیہ اندرابی کو دی گئی سزا کی مذمت کرتے ہوئے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام کشمیری سیاسی کارکنوں کو فوری طور پر رہا کرے۔ انہوں نے بھارتی وزیر خارجہ کے بیانات کو غیر سفارتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھاتے ہیں۔

افغانستان سے متعلق گفتگو میں ترجمان نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا ’’آپریشن غضب للحق‘‘ جاری ہے، جس کا مقصد ملک میں موجود دہشت گرد عناصر کا خاتمہ اور سکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے افغان طالبان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کے ساتھ امن اور مذاکرات کے لیے سنجیدہ اور مثبت کوششیں کی ہیں اور مستقبل میں بھی یہی پالیسی جاری رہے گی۔

ایران اور دیگر علاقائی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان کا بنیادی مقصد خطے میں امن اور استحکام کا قیام ہے۔ انہوں نے کہا کہ سفارتکاری کے عمل میں رکاوٹیں آنا ایک معمول کی بات ہے، تاہم پاکستان اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مذاکرات کے لیے ایک محفوظ اور قابل اعتماد مقام فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس حوالے سے تفصیلات مناسب وقت پر جاری کی جائیں گی۔ انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ افواہوں پر توجہ نہ دیں اور صرف مستند معلومات پر اعتماد کریں۔

بنگلہ دیش کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ ماضی کے معاملات پیچیدہ ضرور ہیں، تاہم پاکستان مستقبل میں بنگلہ دیش کے ساتھ بہتر اور مثبت تعلقات کا خواہاں ہے۔