محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی ہواؤں کا سلسلہ اتوار سے ملک کے مغربی علاقوں میں داخل ہونے کا امکان ہے جو 26 جنوری کو ملک کے بالائی حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے گا۔
اتوار کی شب نیا موسمی سسٹم بلوچستان میں داخل ہوگا جہاں میدانی علاقوں میں بارش جبکہ پہاڑی علاقوں میں برفباری متوقع ہے۔
بلوچستان کے بیشتر اضلاع بشمول کوئٹہ، زیارت، چمن، پشین، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، نوشکی، ہرنائی، ژوب، قلات، بارکھان، سبی، تربت، گوادر، جیوانی، کیچ، آواران، پنجگور، خضدار، واشک اور خاران میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش جبکہ بالائی علاقوں میں برفباری کا امکان ہے۔
اسی دوران بالائی سندھ کے علاقوں سکھر، لاڑکانہ، جیکب آباد اور دادو میں بھی بارش متوقع ہے۔
26 اور 27 جنوری کے دوران اسلام آباد، راولپنڈی، گلگت بلتستان، کشمیر، بالائی خیبر پختونخوا اور بالائی و وسطی پنجاب کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ وقفے وقفے سے بارش جبکہ پہاڑی علاقوں میں برفباری کا امکان ہے۔
چند مقامات پر شدید برفباری بھی متوقع ہے، خاص طور پر چترال، دیر، سوات، کالام، شانگلہ، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، مری، گلیات، وادی نیلم، باغ، حویلی اور راولا کوٹ میں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق 26 جنوری کی شب سے 27 جنوری کے دوران شدید برفباری کے باعث بالائی علاقوں میں سڑکوں کی بندش اور پھسلن کے سبب ٹریفک کی روانی متاثر ہو سکتی ہے۔
بالائی خیبر پختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودے گرنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات نے شہریوں اور مسافروں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی ہے۔
ترجمان موٹر وے پولیس کے مطابق موسم میں بہتری کے بعد مری ایکسپریس وے ٹریفک کے لیے کھول دی گئی ہے۔
ہزارہ ایکسپریس وے اچھڑیاں سے کس پل تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے تاحال بند ہے اور شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ موسمی حالات کے پیش نظر غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر میں وادی تیراہ میں برفباری کے باعث پھنسے مسافروں کے لیے ریسکیو آپریشن آج تیسرے روز بھی جاری ہے۔
ترجمان ریسکیو 1122 کے مطابق اب تک 1500 سے زائد افراد اور 350 گاڑیوں کو بحفاظت نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے جبکہ 100 سے زائد افراد کو طبی امداد بھی فراہم کی گئی ہے۔







