پولیس کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب انجینئر محمد علی مرزا قرآن و سنت ریسرچ اکیڈمی کے باہر لیکچر دے رہے تھے کہ ایک شخص نائن ایم ایم پستول لے کر احاطے میں داخل ہوا، زمین پر لیٹ گیا اور فائرنگ شروع کر دی۔

جہلم کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) چوہدری شفیق نے بتایا کہ پولیس نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا، جب کہ انجینئر محمد علی مرزا محفوظ رہے۔

پولیس ترجمان کاشف کیانی کے مطابق حملے کے دوران سیکیورٹی پر مامور ایک پولیس اہلکار زخمی ہو گیا۔ کانسٹیبل کے پاؤں میں گولی لگی، جسے فوری طور پر جہلم ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔

مزید برآں، انجینئر محمد علی مرزا پر مبینہ قاتلانہ حملے کا مقدمہ اُن کی اکیڈمی ’قرآن و سنت ریسرچ اکیڈمی‘ کی کور کمیٹی کے ایک رکن کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق اتوار کے روز لیکچر کے اختتام پر فوٹو سیشن کے دوران ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے انجینئر محمد علی مرزا پر حملہ کیا، اُن کا عمامہ (پگڑی) زمین پر پٹخ دیا اور اُن کے گلے کو دونوں ہاتھوں سے دبوچ کر سانس روکنے کی کوشش کی۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ موقع پر موجود افراد نے ملزم کو قابو کر کے اکیڈمی میں تعینات پولیس اہلکاروں کے حوالے کر دیا۔ پولیس نے مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 324 (اقدامِ قتل) کے تحت درج کر لیا ہے۔

ایس ایس پی چوہدری شفیق نے کہا کہ واقعے کے بعد سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے، جب کہ حملہ آور کی شناخت کے لیے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) سے مدد لی جا رہی ہے۔

پولیس کے مطابق حملے کا مقصد تاحال واضح نہیں ہو سکا، تاہم انجینئر محمد علی مرزا ماضی میں بھی حملوں اور تنازعات کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ جہلم پولیس کے مطابق مارچ 2021 میں ان پر چاقو سے حملہ کیا گیا تھا جس میں وہ زخمی ہوئے تاہم محفوظ رہے، جب کہ سنہ 2017 میں بھی ایک قاتلانہ حملے میں وہ بچ گئے تھے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال انجینئر محمد علی مرزا کو مبینہ توہین مذہب کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا، تاہم دسمبر 2025 میں انہیں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ انجینئر محمد علی مرزا سوشل میڈیا پر مذہبی موضوعات پر تقاریر کے باعث خاصی شہرت رکھتے ہیں اور ان کے یوٹیوب چینل کے لاکھوں سبسکرائبرز ہیں۔