یہ کیس اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی کی سربراہی میں سنا گیا، جہاں درخواست گزار ڈاکٹر محمد اسلم خاکی کی جانب سے دائر درخواست پر ابتدائی سماعت ہوئی۔ دورانِ سماعت اٹارنی جنرل عدالت میں پیش نہ ہو سکے، جس پر اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عثمان گھمن نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اٹارنی جنرل دیگر سرکاری مصروفیات کے باعث حاضر نہیں ہو سکتے، تاہم عدالت کی ہدایت پر وہ آئندہ سماعت میں پیش ہو جائیں گے۔
عدالت نے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کی استدعا منظور کرتے ہوئے کیس کی سماعت 7 اپریل تک ملتوی کر دی اور واضح کیا کہ آئندہ سماعت پر اٹارنی جنرل کی موجودگی ضروری ہوگی تاکہ عدالت اس اہم آئینی اور قانونی معاملے پر مکمل معاونت حاصل کر سکے۔
سماعت کے دوران درخواست گزار اسلم خاکی، اسلامی نظریاتی کونسل کے وکیل اور دیگر متعلقہ حکام عدالت میں موجود تھے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے انجینیئر محمد علی مرزا کے خلاف دی گئی فتویٰ نما رائے آئین اور قانون کے منافی ہے، جسے معطل کیا جانا چاہیے۔
درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ کسی فرد کو گستاخی جیسے سنگین الزام کا مرتکب قرار دینا ایک حساس اور قانونی معاملہ ہے، جس پر مناسب عدالتی کارروائی کے بغیر رائے دینا شہری کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ اسی بنیاد پر عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے کو غیر مؤثر قرار دیا جائے۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ کیس مذہبی، قانونی اور آئینی پہلوؤں کے باعث غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے، جس پر عدالت کا حتمی فیصلہ آئندہ سماعتوں میں متوقع ہے۔







