ایف بی آر کے مطابق یہ فیصلہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی شق 214 اے کے تحت کیا گیا ہے۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ تاریخ میں توسیع مختلف تجارتی تنظیموں ٹیکس بار ایسوسی ایشنز اور عوام کی درخواستوں پر کی گئی ہے۔

ایف بی آر نے وضاحت کی کہ اس فیصلے سے قبل توسیع سے متعلق تمام خبروں کو مسترد کیا گیا تھا۔ سوموار کے روز جاری کیے گئے ایک بیان میں ادارے نے کہا تھا کہ مختلف میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی خبروں میں تاریخ میں توسیع کے دعوے بے بنیاد ہیں۔

اس وقت ایف بی آر نے کہا تھا کہ یہ خبریں غلط بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں کیونکہ ٹیکس سال 2025 کے گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں کوئی توسیع نہیں کی گئی۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ زیادہ تر ٹیکس دہندگان ایسے علاقوں میں رہائش پذیر ہیں جو حالیہ سیلاب سے متاثر نہیں ہوئے اور انہیں گوشوارے جمع کرانے کے لیے کافی وقت دیا گیا ہے۔


ایف بی آر نے آئرس نظام میں سستی کی شکایات کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آئرس پلیٹ فارم مکمل طور پر فعال ہے باآسانی کام کر رہا ہے اور ٹیکس دہندگان نئے سادہ انکم ٹیکس ریٹرن فارم کے ذریعے اپنے گوشوارے جمع کرا سکتے ہیں۔

واضع رہے کہ ایف بی آر نے خبردار کیا ہے کہ مقررہ تاریخ کے بعد گوشوارے جمع نہ کرانے والوں کو لیٹ فائلر قرار دیا جائے گا اور قانون کے مطابق ان پر جرمانے عائد ہوں گے۔

حکام کے مطابق توسیع کا مقصد زیادہ سے زیادہ افراد کو ریٹرن جمع کرانے کی سہولت دینا ہے۔ تاہم ادارے نے واضح کیا ہے کہ اب دی گئی توسیع کے بعد مزید کسی اضافی مہلت کا امکان نہیں۔