پاکستانی حکومت اور فوج یہ کہتی آئی ہے کہ ان میں زیادہ تر حملے سرحدپار افغانستان میں موجود کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے جنگجو ملوث ہیں۔
پاکستان افغان طالبان حکومت سے بھی یہ مطالبہ کرتا آیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکیں۔ افغانستان کی حکومت ایسے حملوں میں کسی بھی کردار کی تردید کرتی آئی ہے۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے بدھ کو جاری بیان کے مطابق 7 اور 8 اکتوبر کی درمیان شب سکیورٹی فورسز نے ضلع اورکزئی میں انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر آپریشن کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ آپریشن کے دوران موثر کارروائی میں 19 ’دہشت گرد‘ مارے گئے جبکہ ’شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران لیفٹیننٹ کرنل جنید طارق جو دستے کی قیادت کر رہے تھے، اور سیکنڈ اِن کمانڈ میجر طیاب راحت نے بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ ان کے ساتھ نو دیگر بہادر سپاہی بھی وطن پر قربان ہوگئے۔‘
لڑائی کے دوران جان سے گئے فوجیوں میں نائب صوبیدار اعظم گل، نائیک عادل حسین، نائیک گل امیر، لانس نائیک شیر خان، لانس نائیک طالب فراز، لانس نائیک ارشاد حسین، سپاہی طفیل خان، سپاہی عاقب علی اور سپاہی محمد زاہد شامل ہیں
آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں صفائی (سینیٹائزیشن) آپریشن جاری ہے ’تاکہ کسی بھی بھارتی سرپرستی یافتہ خوارج کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔
’پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ملک سے بھارتی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے پرعزم ہیں، اور ہمارے بہادر سپاہیوں کی ایسی عظیم قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔‘
وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بیان میں ضلع اورکزئی میں سکیورٹی آپریشن میں ’بھارتی حمایت 19 دہشت گردوں‘ کو مارنے پر سکیورٹی فورسز کو سراہتے ہوئے لیفٹیننٹ کرنل جنید طارق اور میجر طیب راحت سمیت پاک فوج کے جرات مند سپاہیوں کی ’شہادت‘ پر اظہار افسوس کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو خاک میں ملا دیں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ’پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانے والے عناصر کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔‘







