اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس میں دھرنا جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر نے کہا ہے کہ جب تک ہمارے کسی عہدیدار کی عمران خان سے ملاقات نہیں ہوجاتی، دھرنا جاری رکھا جانا چاہیے۔
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی نے بھی کہا کہ ہمارا دھرنا جاری ہے۔
پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا جب تک عمران خان سے کوئی پارٹی عہدیدار نہیں ملتا ہم دھرنا جاری رکھیں گے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسد قیصر نے بتایا کہ آج اپوزیشن کی میٹنگ میں علامہ ناصرعباس اور بیرسٹرگوہر نے پارلیمنٹیرینز کو بریف کیا، پارٹی کی مرکزی کی قیادت کی مشاورت جاری ہے، ہمارا مطالبہ ہےکہ بانی پی ٹی آئی سے اپنے معالج کی ملاقات کروائی جائے، اگرہمارے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے تو دھرنا مسلسل جاری رہے گا۔
سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا خیبرپختونخوا ہاؤس کےباہر بھی پی ٹی آئی رہنما دھرنا جاری رکھیں گے۔
خیال رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اسپتال منتقلی کے معاملے پر اپوزیشن اتحاد کے احتجاج کا آج چوتھا روز ہے۔
اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے پارلیمنٹ ہاؤس اور کے پی ہاؤس میں دھرنے جاری ہیں۔
دوسری جانب بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کے آنکھوں کےمعائنہ سے متعلق میڈیکل رپورٹ سامنے آگئی۔
رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کا معائنہ 15 فروری 2026 کو کیا گیا، پروفیسرز پر مشتمل ماہر امراضِ چشم کے میڈیکل بورڈ نے مائنہ کیا، میڈیکل بورڈ میں الشفاء ٹرسٹ آئی اسپتال کے پروفیسر ڈاکٹر ندیم قریشی اورپمز اسلام آباد کے پروفیسر ڈاکٹر محمد عارف خان شامل تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی عینک کے بغیر 6/24 پارشل ریکارڈ ہوئی جبکہ بائیں آنکھ کی بینائی 6/9 ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق عینک کے ساتھ دائیں آنکھ کی بینائی بہتر ہو کر 6/9 پارشل ہوگئی جبکہ بائیں آنکھ کی بینائی مکمل طور پر 6/6 ہوگئی۔
میڈیکل رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کی بینائی 6/36 سے بہتر ہو کر 6/9 پارشل ہو گئی جو اس مرحلے پر کافی اچھی بینائی ہے ، ماہرین نے اینٹی وی ای جی ایف علاج کی تکمیل کے بعد او سی ٹی اینجیو گرافی اور ایف ایف اے ٹیسٹ کروانے کا مشورہ دیا۔
پی ٹی آئی احتجاج، اسلام آباد موٹروے بند، اس وقت صوابی میں کیا صورتحال ہے؟
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے عمران خان کی صحت کی خرابی کے بعد احتجاج پورے ملک میں پھیلا دیا ہے، سب سے بڑا احتجاج خیبر پختونخوا کے علاقے صوابی میں جاری ہے۔
اسلام آباد موٹروے صوابی انٹرچینج پر احتجاج چوتھے روز بھی جاری ہے جس کے باعث پشاور اسلام آباد موٹروے (ایم ون) ریسٹ ایریا کے مقام پر ہر قسم کی ٹریفک کیلئے مکمل طور پر بند ہے۔
مظاہرین نے انٹرچینج پر دھرنا دے رکھا ہے جس کے نتیجے میں موٹروے پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ موٹروے بند ہونے کی وجہ سے ٹریفک کئی کلومیٹر تک پھیل چکی ہے جبکہ خواتین،بچوں اور بزرگ مسافروں کو زیادہ پریشانی کا سامنا ہے۔
موٹروے کی بندش کے باعث صوابی شہر، ٹوپی اور غازی روڈ پر بھی ٹریفک کا شدید دباؤ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
متبادل راستوں پر غیر معمولی رش کے باعث شہریوں کو آمد و رفت میں مشکلات پیش آ رہی ہیں اور سفری دورانیہ کئی گنا بڑھ گیا ہے۔
ٹریفک پولیس کے مطابق صورتحال پر قابو پانے اور ٹریفک کی روانی بحال کرنے کےلیے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاہم تاحال موٹروے کھولنے کے حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب شہریوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر مسئلے کا حل نکالا جائے تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔






