اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اپوزیشن رہنماؤں نے پارلیمنٹ میں متحدہ اپوزیشن بنانے کا اصولی فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد اپوزیشن کے کردار کو مؤثر بنانا اور مشترکہ مؤقف قوم تک پہنچانا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے حکومت کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تالی دو ہاتھوں سے بجتی ہے، جب کہ اس وقت ایک ہاتھ قوم کو تھپڑ مار رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں ہر شخص خود کو غیر محفوظ سمجھتا ہے اور حکومت گزشتہ کئی برس سے صرف تسلیاں دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دو صوبوں میں بدامنی کی صورتحال سب کے سامنے ہے، متعدد آپریشنز کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوسکے۔ غلط حکومتی پالیسیوں کے باعث معیشت متاثر ہورہی ہے، مغربی اور مشرقی سرحدوں کی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے نئے صوبوں کی باتوں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ملک میں حالات خراب ہوں تو اس وقت صوبوں کی تقسیم کی بات کرنا مناسب نہیں۔ پارلیمنٹ کے اندر متحدہ اپوزیشن کا یہ پہلا قدم ہے اور اپوزیشن اپنا کردار مزید مؤثر بنائے گی۔
پارلیمنٹ کے اندر اتحاد کے بعد اگلا مرحلہ سڑکوں پر اپوزیشن اتحاد کا ہوگا، سلمان اکرم راجہ
پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ملکی حالات کا تقاضا ہے کہ اپوزیشن متحد ہو کر چلے۔ پارلیمنٹ کے اندر اتحاد کے بعد اگلا مرحلہ سڑکوں پر اپوزیشن اتحاد کا ہوگا۔ جبر کے ذریعے صوبے نہیں بنائے جاسکتے، تمام فیصلے سب کو ساتھ لے کر کرنا ہوں گے۔
پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہے اور پکڑ دھکڑ کا طریقہ مزید نہیں چل سکتا، محمود خان اچکزئی
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہے اور پکڑ دھکڑ کا طریقہ مزید نہیں چل سکتا۔ انہوں نے آئین و قانون کی حکمرانی قائم کرنے اور پارلیمان کو ہر معاملے پر اعتماد میں لینے کا مطالبہ کیا۔
قانون کے بغیر کوئی ملک جنگل بن جاتا ہے، علامہ راجہ ناصر عباس
علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ قانون کے بغیر کوئی ملک جنگل بن جاتا ہے۔ انہوں نے عدالتی احکامات کی مبینہ خلاف ورزی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اب کہیں سے تو ان کی راہیں روکنی ہوں گی۔
یہ ملک کسی فرد واحد کا نہیں بلکہ تمام پاکستانیوں کا ہے، اسد قیصر
اسد قیصر نے تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کسی فرد واحد کا نہیں بلکہ تمام پاکستانیوں کا ہے۔ انہوں نے صوبوں میں امن و امان قائم کرنے اور نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کا مطالبہ بھی کیا۔
اپوزیشن رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ صوبوں سے متعلق کسی بھی معاملے پر مشترکہ مؤقف اپنایا جائے گا، جب کہ آئندہ دنوں میں مشترکہ پارلیمانی حکمت عملی کو مزید آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔







