حکام کے مطابق 297 جنگجو ہلاک اور 450 سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ 89 چیک پوسٹس تباہ اور 18 اہم پوسٹس پر قبضہ کر لیا گیا۔ مزید یہ کہ 135 ٹینک اور مسلح گاڑیاں بھی تباہ کی گئیں، اور افغانستان کے 29 مختلف مقامات کو مؤثر فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ پاکستانی فورسز کی فوری اور مؤثر کارروائی کے نتیجے میں افغان طالبان کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا اور ملک کے جانی و مالی تحفظ کو یقینی بنانے کے اقدامات کو عملی جامہ پہنایا گیا۔ ان کے مطابق یہ کارروائی جارحیت کے ردعمل میں کی گئی اور قومی سلامتی کے لیے ناگزیر تھی۔

وزیراعظم کے ترجمان برائے غیرملکی میڈیا مشرف زیدی نے بھی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس آپریشن میں نہ صرف افغان طالبان بلکہ تحریک طالبان پاکستان اور دیگر شدت پسند گروہوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ دشمن کی 89 چیک پوسٹس تباہ کی گئیں اور 18 اہم مقامات پر کنٹرول حاصل کیا گیا، جبکہ 135 ٹینک اور مسلح گاڑیاں تباہ ہوئیں۔
 ان کے بقول 29 مختلف مقامات پر فضائی کارروائیاں کی گئیں اور جارحیت کے جواب میں پاکستان کا ردعمل تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔