مچھلی کے تیل میں بنیادی طور پر اومیگا تھری فیٹی ایسڈز پائے جاتے ہیں، جن میں ای پی اے (EPA) اور ڈی ایچ اے (DHA) شامل ہیں۔ یہ اجزا جسم کے معمول کے افعال، دماغی صحت اور سوزش کے عمل کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مچھلی کے تیل میں وٹامن اے اور وٹامن ڈی بھی موجود ہوسکتے ہیں، تاہم ان کی مقدار کا انحصار سپلیمنٹ کی قسم اور تیاری کے طریقے پر ہوتا ہے۔
جو افراد مچھلی کھانا پسند نہیں کرتے یا اپنی غذا سے مطلوبہ مقدار میں اومیگا تھری حاصل نہیں کرپاتے، ان کے لیے مچھلی کے تیل کے کیپسول ایک متبادل ذریعہ ہوسکتے ہیں۔ تاہم سپلیمنٹ کا انتخاب کرتے وقت اس میں موجود اجزا اور ان کی مقدار کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق مچھلی کے تیل میں موجود اومیگا تھری فیٹی ایسڈز جسم میں سوزش پیدا کرنے والے بعض عوامل کو کم کرنے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جوڑوں کے درد اور سوزش سے متعلق بیماریوں میں بھی اس کے ممکنہ فوائد پر تحقیق کی گئی ہے۔
جوڑوں کے بعض امراض، خصوصاً ریمیٹائڈ آرتھرائٹس، میں جسم کا مدافعتی نظام غلطی سے اپنے ہی صحت مند خلیات اور بافتوں کو نشانہ بنانے لگتا ہے۔ اس کے نتیجے میں جوڑوں میں سوجن، درد، اکڑن اور حرکت میں دشواری پیدا ہوسکتی ہے۔ بعض مریضوں میں یہ علامات روزمرہ زندگی اور معمول کے کاموں کو بھی متاثر کرتی ہیں۔
تحقیقی شواہد کے مطابق اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کے استعمال سے ایسے مریضوں میں سوزش اور درد کی شدت کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ایک تحقیق میں بھی یہ بات سامنے آئی کہ مچھلی کے تیل کے استعمال سے جوڑوں کے دائمی درد میں کمی واقع ہوسکتی ہے، جبکہ بعض افراد میں جوڑوں کی اکڑن بھی کم ہوتی ہے۔
2021 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں مچھلی کے تیل سمیت مختلف غذائی سپلیمنٹس اور جوڑوں کی صحت سے متعلق 70 تحقیقی رپورٹس کا تجزیہ کیا گیا۔ اس جائزے میں مچھلی کے تیل کے استعمال سے جوڑوں کے درد اور اکڑن میں کمی کے ممکنہ فوائد کی نشاندہی کی گئی۔ تحقیق کے مطابق بعض مریضوں میں اومیگا تھری سپلیمنٹس کے استعمال سے ادویات کے علاجی اثرات میں بھی بہتری دیکھی گئی۔
تاہم مچھلی کا تیل جوڑوں کے امراض کا مکمل علاج نہیں ہے اور نہ ہی اسے ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات کا متبادل سمجھنا چاہیے۔ اس کے فوائد ہر فرد میں یکساں نہیں ہوتے اور نتائج کا انحصار بیماری کی نوعیت، سپلیمنٹ کی مقدار اور مریض کی مجموعی صحت پر ہوسکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مچھلی کے تیل کے کیپسول استعمال کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے، خصوصاً وہ افراد جو خون پتلا کرنے والی ادویات لیتے ہیں، انہیں کسی بیماری کا سامنا ہے یا وہ پہلے سے دیگر سپلیمنٹس استعمال کررہے ہیں۔ زیادہ مقدار میں استعمال بعض افراد کے لیے مضر اثرات کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
مجموعی طور پر مچھلی کے تیل میں موجود اومیگا تھری فیٹی ایسڈز دل، دماغ اور جوڑوں کی صحت کے حوالے سے اہم غذائی اجزا ہیں۔ متوازن غذا کے ساتھ ان کا مناسب استعمال بعض افراد میں سوزش اور جوڑوں کی تکلیف کم کرنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے، تاہم کسی بھی سپلیمنٹ کا استعمال طبی مشورے کے مطابق کرنا زیادہ محفوظ ہے۔







