پاکستان کی تاریخ میں جب بھی جرات مندانہ، فکری اور نظریاتی صحافت کا ذکر ہوگا، الطاف حسن قریشی کا نام نمایاں رہے گا۔ وہ صرف ایک صحافی یا مدیر نہیں تھے بلکہ ایک ایسی فکری درسگاہ تھے جنہوں نے ملک میں مجلاتی صحافت کو نئی جہت دی اور قلم کی حرمت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔

ابتدائی زندگی اور تعلیم

الطاف حسن قریشی 3 مارچ 1932 کو برطانوی ہندوستان کے ضلع حصار میں پیدا ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد 1947 میں وہ اپنے خاندان کے ساتھ ہجرت کر کے لاہور منتقل ہو گئے۔

انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے سیاسیات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی، جس کے بعد صحافت اور سیاسی تحریر کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا۔

اردو ڈائجسٹ اور فکری صحافت

الطاف حسن قریشی نے 1959 میں اپنے بھائی ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی کے ساتھ مل کر لاہور سے ماہنامہ “اردو ڈائجسٹ” کا اجرا کیا۔ یہ وہ دور تھا جب ملک میں سنجیدہ اور فکری لٹریچر کی شدید کمی محسوس کی جا رہی تھی۔

“اردو ڈائجسٹ” نے مختصر وقت میں غیرمعمولی مقبولیت حاصل کی اور پاکستان کے پڑھے لکھے گھرانوں میں ایک معتبر جریدے کے طور پر پہچانا جانے لگا۔ اس رسالے کے ذریعے الطاف حسن قریشی نے نہ صرف اردو ادب اور فکری مباحث کو فروغ دیا بلکہ نوجوان نسل میں حب الوطنی، نظریۂ پاکستان اور اسلامی اقدار کا شعور بھی اجاگر کیا۔

وہ اس جریدے کے پہلے مدیر مقرر ہوئے اور طویل عرصے تک اس کی ادارت کرتے رہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے “جنگ” سمیت مختلف اردو اخبارات میں کالم نگاری بھی کی۔

حق گوئی اور قید و بند

الطاف حسن قریشی کی صحافتی زندگی اصول پسندی اور بے باک اظہارِ رائے سے عبارت تھی۔ انہوں نے ایوب خان، یحییٰ خان اور ذولفقار علی بھٹو کے ادوار میں سیاسی بحرانوں، حکومتی پالیسیوں اور آمرانہ
رویوں پر کھل کر تنقید کی۔

ان کے بے خوف اداریوں اور تجزیوں کی وجہ سے حکومتیں اکثر ان سے نالاں رہیں۔ اپنے اصولی مؤقف کی پاداش میں انہیں اور ان کے بھائی کو متعدد مرتبہ جیل بھی جانا پڑا جبکہ ان کے جریدے پر پابندیاں بھی عائد کی گئیں، تاہم ان کا قلم کبھی خاموش نہ ہو سکا۔

نظریاتی سیاست اور فکری اثرات

الطاف حسن قریشی نے صحافت کا آغاز ایسے دور میں کیا جب 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں کمیونزم اور اسلام پسند نظریات کے درمیان شدید فکری کشمکش جاری تھی۔ وہ اور ان کے بھائی دائیں بازو کے فکری حلقوں سے وابستہ رہے اور پاکستان میں اسلامی سیاسی نظام کے حامی مذہبی طبقات کی حمایت کرتے رہے۔

وہ معروف اسلامی مفکر ابو الاعلیٰ مودودی کی فکر اور تحریروں سے گہرے طور پر متاثر تھے۔

سقوطِ ڈھاکہ اور قومی بیانیہ

الطاف حسن قریشی نے سقوطِ ڈھاکہ کے سانحے کو محض ایک سیاسی واقعہ نہیں بلکہ قومی المیہ قرار دیا۔ انہوں نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے اسباب، سیاسی بحرانوں اور ریاستی غلطیوں پر تفصیلی تجزیے تحریر کیے۔

ان کی تحریریں اور کتابیں آج بھی پاکستان کی سیاسی تاریخ کو سمجھنے کے لیے اہم حوالہ سمجھی جاتی ہیں۔ ان کی تصنیف “مشرقی پاکستان: ٹوٹا ہوا ستارہ” کو سقوطِ ڈھاکہ کے پس منظر پر ایک اہم دستاویز قرار دیا جاتا ہے۔

تصانیف اور ادبی خدمات

الطاف حسن قریشی نے صحافت، سیاست اور قومی موضوعات پر متعدد کتابیں لکھیں، جن میں “ملاقاتیں”، “جنگِ ستمبر کی یادیں”، “مقابل ہے آئینہ”، “چھ نکات کی سچی تصویر”، “مزید ملاقاتیں”، “ملاقاتیں
کیا کیا” اور “نوکِ زبان” شامل ہیں۔

ان کی کتاب “ملاقاتیں” میں مختلف قومی و عالمی شخصیات کے انٹرویوز شامل ہیں، جبکہ “جنگِ ستمبر کی یادیں” 1965 کی پاک بھارت جنگ کے تناظر میں خاص طور پر معروف ہوئی۔

اعزازات اور اعتراف

صحافت، ادب اور قومی فکر کے میدان میں ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں “ستارۂ امتیاز” سے نوازا۔ اس کے علاوہ آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی اور کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز کی جانب سے انہیں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ بھی دیا گیا۔

صحافتی حلقوں کے مطابق الطاف حسن قریشی کا طرزِ تحریر، سیاسی بصیرت اور صحافتی اخلاقیات آج بھی نوجوان صحافیوں اور میڈیا کے طلبہ کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ انہوں نے ثابت کیا کہ صحافت صرف خبر پہنچانے کا نام نہیں بلکہ معاشرے کی فکری تعمیر کا ایک اہم فریضہ بھی ہے۔