ورلڈ بینک کے مطابق تقریباً 7 کروڑ پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ تو سوال یہ ہے کہ جب قرض کم ہے تو تکلیف زیادہ کیوں ہے؟
پہلی چوٹ روپے نے لگائی۔ 2021 میں ایک ڈالر 160 روپے کا تھا۔ اور اب 2026 میں تقریباً 280 روپے ہے صرف چار سے پانچ سالوں میں کرنسی 90 فیصد کمزور ہو گئی۔ اور چونکہ پاکستان اپنی بڑی ضروریات تیل، گیس، اور مشینری باہر سے خریدتا ہے، اس لیے جیسے ہی ڈالر مہنگا ہوا، ہر چیز مہنگی ہو گئی۔
2023 میں مہنگائی 38 فیصد تک پہنچی کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح پر۔ یہ کوئی اتفاق نہیں تھا، یہ اس معیشت کا منطقی انجام تھا جو پیدا کم کرتی ہے اور خریدتی زیادہ ہے۔ پھر بجلی کا معاملہ آتا ہے اور یہ شاید سب سے تکلیف دہ کہانی ہے۔ بجلی کے شعبے کا سرکلر ڈٹ 2.6 سے 3.2 کھرب روپے کے درمیان پہنچ چکا ہے۔
بلوں میں کپیسٹی پیمنٹ شامل ہیں یعنی وہ بجلی جو پیدا ہی نہیں ہوئی، اس کے پیسے بھی عوام دیتے ہیں۔ اوپر سے لائن لاسز اور چوری کی الگ ہی کہانی ہے۔ یہ بوجھ آئی ایم ایف نے نہیں ڈالا یہ دہائیوں کی بدانتظامی، غلط معاہدوں اور احتساب سے فرار کا نتیجہ ہے۔
ٹیکس کا نظام دیکھیں تو تصویر اور بھی تلخ ہو جاتی ہے۔ 24 کروڑ کی آبادی میں ٹیکس فائلرز کی تعداد چند ملین ہے۔ تاجر، زمیندار، بڑے کاروبار سب نظام سے باہر ہیں۔ حکومت خسارہ پورا کرنے کے لیے انڈایرکٹ ٹیکس کا سہارا لیتی ہے پٹرول پر، بجلی پر، گیس پر، روزمرہ اشیاء پر۔
اور یہ بوجھ سیدھا اس آدمی پر گرتا ہے جو پہلے سے پس رہا ہے۔ جو ٹیکس دے سکتے ہیں، وہ نہیں دیتے جو نہیں دے سکتے، وہ ہر چیز پر دیتے ہیں۔ اور آخر میں وہ زخم جو سب سے گہرا ہے وہ ہے قرضوں کا سود۔
پاکستان کے بجٹ کا سب سے بڑا حصہ کسی اسپتال پر، کسی اسکول پر، کسی سڑک پر نہیں قرضوں کی سود ادائیگی پر خرچ ہوتا ہے۔ جب اتنا بڑا حصہ وہاں چلا جائے تو سبسڈی اور ریلیف ملنا بہت مشکل ہے۔
جب تک پاکستان میں ٹیکس ہر بندہ نہیں دے گا اور بجلی سستی نہیں ملے گی اور سرکاری اخراجات کنٹرول میں نہیں ہوں گے… تب تک اسٹیبیلیٹی صرف وقتی ریلیف ہی رہے گی، مستقل حل نہیں۔






