ذرائع کے مطابق وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی ہم منصب سے گفتگو کے دوران خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال پر پاکستان کے نقطہ نظر سے آگاہ کیا اور امن و استحکام کی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور ایران قریبی مشاورت اور رابطے میں رہیں گے تاکہ باہمی تعاون اور سفارتی ہم آہنگی کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔
ٹیلیفونک گفتگو کے دوران پاک ایران تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر بھی بات چیت ہوئی، جبکہ دونوں وزرائے خارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دوطرفہ سفارتی روابط کو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھایا جائے گا اور مشترکہ مفادات کے فروغ کے لیے تعاون جاری رکھا جائے گا۔
مزید پڑھیں: ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے قبل مذاکرات کو ترجیح دی جائے، نائب امریکی صدر
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکا سے متعلق ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان رابطے کے ذرائع بدستور کھلے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف کے درمیان براہِ راست رابطہ موجود ہے اور ضرورت پڑنے پر پیغامات کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔
ترجمان کے مطابق روایتی ثالث سوئٹزرلینڈ کے ذریعے بھی دونوں ممالک کے درمیان رابطہ برقرار ہے۔ اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ امریکا کی جانب سے بعض معاملات پر بات کی گئی اور کچھ عمومی خیالات سامنے آئے، تاہم مجموعی طور پر ایران نے کبھی مذاکرات کے عمل سے پیچھے ہٹنے کا مؤقف اختیار نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں امریکا کی طرف سے آنے والے متضاد بیانات سنجیدگی کے فقدان کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ ایران خطے میں کشیدگی کے بجائے بات چیت اور سفارتی ذرائع پر یقین رکھتا ہے۔







