دفتر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گفتگو کے دوران علاقائی امن و استحکام، باہمی دلچسپی کے امور اور موجودہ جغرافیائی و سیاسی پیش رفت پر بات چیت کی گئی۔ دونوں وزرائے خارجہ نے اس امر پر زور دیا کہ پیچیدہ علاقائی حالات میں بات چیت اور سفارتکاری ہی مسائل کا مؤثر حل ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور ایران نے اپنے قریبی برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے مستقبل میں بھی قریبی رابطے اور ہم آہنگی برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

ذرائع کے مطابق گفتگو میں سرحدی تعاون، سیکیورٹی امور اور اقتصادی روابط کو فروغ دینے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات کا خواہاں ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کا اہم دورہ کیا تھا جس کے دوران انہوں نے صدر مملکت، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کی تھیں۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، سرحدی تعاون، علاقائی صورتحال اور عالمی امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی تھی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ کا دورہ ایسے وقت میں ہوا تھا جب خطے میں کشیدگی پائی جا رہی تھی اور اسے علاقائی سطح پر تناؤ میں کمی لانے کی سفارتی کوششوں کا حصہ قرار دیا گیا تھا۔

تازہ ٹیلی فونک رابطے کو بھی دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی روابط کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہے۔