وزارتِ خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال، بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور اس کے ممکنہ اثرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے فوری طور پر کشیدگی میں کمی ناگزیر ہے۔
گفتگو کے دوران اسحاق ڈار نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن کے فروغ، مذاکرات اور سفارتی حل کی مکمل حمایت جاری رکھے گا،پاکستان ہمیشہ تنازعات کے حل کے لیے بات چیت اور سفارتکاری کو ترجیح دیتا آیا ہے اور موجودہ حالات میں بھی یہی راستہ اختیار کیا جا رہا ہے۔
اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفدی نے بھی خطے میں امن کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ کشیدگی نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی اثرات مرتب کر سکتی ہے، اس لیے فوری اور مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے۔
ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ بدلتی ہوئی صورتحال میں قریبی رابطہ برقرار رکھا جائے گا تاکہ کسی بھی ممکنہ پیش رفت پر مشترکہ حکمت عملی اپنائی جا سکے۔
واضع رہے کہ پاکستان اور اردن کے درمیان یہ سفارتی رابطہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مسلم ممالک خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ مؤقف اپنانے کی کوشش کر رہے ہیں، ایسے روابط کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے امکانات بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
حکام کے مطابق پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کے تحت خطے میں توازن، امن اور سفارتی حل کے فروغ کے لیے متحرک کردار ادا کرتا رہے گا، جبکہ دوست ممالک کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔







