ملاقات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر ہوئی۔ اسحاق ڈار ان دنوں نیویارک میں جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی ہفتے میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں اور مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کررہے ہیں۔
ملاقات کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان اور سنگاپور کے باہمی تعلقات کا جائزہ لیا اور مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید آگے بڑھانے کے امکانات پر گفتگو کی۔ فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ مسلسل سفارتی رابطہ اور اعلیٰ سطح کے باہمی دورے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
دونوں جانب سے دوطرفہ تعاون کو عملی بنیادوں پر مزید وسعت دینے کی ضرورت پر بھی بات چیت کی گئی۔ اس سلسلے میں تجارت، سرمایہ کاری، معیشت، ڈیجیٹل شعبے، جدت اور دیگر باہمی مفاد کے شعبوں میں تعاون کے امکانات کو اہم قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں ممالک اپنے تعلقات کو مزید فعال اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے مسلسل رابطے کے خواہاں ہیں۔
ملاقات میں علاقائی اور عالمی صورتحال بھی زیر بحث آئی۔ دونوں وزرائے خارجہ نے باہمی دلچسپی کے بین الاقوامی معاملات پر تبادلہ خیال کیا جبکہ علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سفارت کاری، مذاکرات اور کثیرالجہتی تعاون کی اہمیت پر بھی گفتگو ہوئی۔
سنگاپور کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ویویان بالاکرشنن نے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پیچیدہ علاقائی اور عالمی مسائل کے حل کے لیے بات چیت اور سفارتی رابطوں کو مؤثر انداز میں جاری رکھا جانا چاہیے۔
ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے رابطوں کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ فریقین کے مطابق وزرائے خارجہ اور دیگر اعلیٰ حکام کے درمیان باقاعدہ رابطے دوطرفہ تعلقات کے مختلف شعبوں میں پیش رفت کا جائزہ لینے اور نئے تعاون کے مواقع تلاش کرنے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔
اسحاق ڈار کی نیویارک میں ملاقاتوں کا سلسلہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی ہفتے کے دوران جاری ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق ان کے پروگرام میں مختلف ممالک کے ہم منصبوں سے دوطرفہ ملاقاتیں اور اہم علاقائی و عالمی معاملات پر تبادلہ خیال شامل ہے۔
پاکستان اور سنگاپور کے سفارتی تعلقات 17 اگست 1966 کو قائم ہوئے تھے اور رواں برس دونوں ممالک ان تعلقات کی 60ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ اس موقع پر دونوں ممالک کی قیادت نے دوطرفہ شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
اگست میں وزیراعظم شہباز شریف نے سنگاپور کے وزیراعظم لارنس وونگ کو جبکہ اسحاق ڈار نے سنگاپور کے وزیر خارجہ ویویان بالاکرشنن کو 60ویں سالگرہ پر تہنیتی پیغامات بھی ارسال کیے تھے۔ اسحاق ڈار نے اپنے پیغام میں تجارت اور سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل معیشت، موسمیاتی امور، فن ٹیک اور جدت جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔
دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں تجارت اور سرمایہ کاری کے علاوہ تعلیم، ثقافت اور عوامی سطح کے روابط بھی اہم شعبے ہیں۔ پاکستان اور سنگاپور نے کثیرالجہتی فورمز، بالخصوص اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر بھی رابطہ اور تعاون جاری رکھا ہے۔
حالیہ ملاقات میں دونوں وزرائے خارجہ نے باہمی رابطوں کا سلسلہ جاری رکھنے اور مشترکہ مفادات کے معاملات پر قریبی مشاورت برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ ملاقات کو پاکستان اور سنگاپور کے سفارتی تعلقات کی 60ویں سالگرہ کے تناظر میں بھی اہم قرار دیا جارہا ہے، جبکہ فریقین کی جانب سے آئندہ برسوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید عملی شکل دینے کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔







