ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اجلاس میں آمنہ بلوچ سمیت وزارت خارجہ کے سینئر حکام نے شرکت کی، جہاں بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال پر جامع بریفنگ دی گئی۔ حکام نے خطے میں جاری کشیدگی، عالمی سطح پر ہونے والی پیش رفت اور پاکستان کے سفارتی کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں خاص طور پر موجودہ جغرافیائی و سیاسی حالات کے تناظر میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا گیا۔ اس موقع پر مختلف اہم امور، بشمول دوطرفہ تعلقات، عالمی فورمز پر پاکستان کا مؤقف اور جاری سفارتی رابطوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو درپیش چیلنجز کے پیش نظر فعال اور پیشگی سفارتکاری وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر اپنے مؤقف کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کے لیے سفارتی سرگرمیوں کو مزید تیز کرنا ہوگا۔

انہوں نے وزارت خارجہ کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ اہم عالمی و علاقائی معاملات پر مسلسل نظر رکھی جائے اور بروقت ردعمل کو یقینی بنایا جائے تاکہ قومی مفادات کا ہر صورت تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔

اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ موجودہ عالمی حالات میں پاکستان کو متوازن اور حقیقت پسندانہ خارجہ پالیسی اپنانا ہوگی، جس کے ذریعے نہ صرف خطے میں امن و استحکام کو فروغ دیا جا سکے بلکہ معاشی و سفارتی مفادات کا بھی تحفظ کیا جا سکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مثبت اور تعمیری روابط کو مزید مستحکم کرے گا۔

سفارتی ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے اعلیٰ سطح کے اجلاس اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں اپنی پوزیشن کو مضبوط بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہا ہے اور خطے میں اہم سفارتی کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔