قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے بتایا کہ غزہ کے مسئلے کے حل کے لیے آٹھ ملکوں کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ تجاویز دی تھیں، تاہم جو مسودہ پیش کیا گیا اس میں ردوبدل کر دی گئی۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ نے جن نکات کا اعلان کیا، وہ آٹھ ممالک کے اصل مسودے سے مختلف تھے اور دفتر خارجہ کی بریفنگ میں یہ بات واضح کر دی گئی تھی۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ جنگ بندی کے لیے صدر ٹرمپ کی آراء کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس (23 سے 27 ستمبر) میں وزیراعظم شہباز شریف نے کشمیر اور فلسطین کے مقدمات بھرپور انداز میں پیش کیے اور اسرائیل کو براہِ راست تنقید کا نشانہ بنایا۔
اسحاق ڈار کے مطابق غزہ اس وقت قبرستان کا منظر پیش کر رہا ہے جہاں لوگ بھوک اور تباہی کا شکار ہیں۔ عالمی ادارے امن قائم کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں، اس لیے پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک کے لیے یہ محض تماشائی بنے رہنے کا معاملہ نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مکمل جنگ بندی اور غزہ کی تعمیر نو ناگزیر ہے اور مسئلہ فلسطین پر سیاست کی گنجائش نہیں کیونکہ پاکستان کی پالیسی قائداعظم کے مؤقف پر مبنی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے اسرائیل سے کوئی روابط نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فورسز نے 22 کشتیاں تحویل میں لے کر متعدد افراد کو گرفتار کیا ہے، جن میں سینیٹر مشتاق احمد بھی شامل ہیں۔
مزید برآں، وزیر خارجہ نے بتایا کہ سعودی عرب کے ساتھ ہونے والا دفاعی معاہدہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ان کے بقول پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دہائیوں پر مشتمل تعلقات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔







