سرکاری ذرائع کے مطابق دھماکے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد کو فوری طور پر پمز، پولی کلینک ہسپتال، راول ہسپتال، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) اور ایچ بی ایس ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے گئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تمام بڑے سرکاری و نجی ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جبکہ ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل اسٹاف اور انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ سینئر ہیلتھ افسران خود علاج معالجہ اور امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے کو مبینہ طور پر خودکش حملہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم واقعے کی نوعیت اور حالات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ دھماکے کی جگہ کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے جبکہ سکیورٹی فورسز نے اطراف کے علاقوں میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے۔
ایس ایس پی آپریشنز قاضی علی رضا موقع پر موجود ہیں اور سکیورٹی انتظامات کے ساتھ ساتھ تحقیقات کی نگرانی کر رہے ہیں۔ واقعے کے بعد آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی نے شہر بھر میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے تمام پولیس فارمیشنز کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کی ہے تاکہ کسی بھی مزید ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
حکام نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ شہید ہونے والوں میں آئی جی اسلام آباد کے فرسٹ کزن بھی شامل ہیں، جس پر پولیس فورس شدید رنج و غم کا شکار ہے۔
پولیس حکام نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہریوں کے تحفظ اور شہر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ترلائی میں دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہادتوں پرافسوس کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی ہے۔
وزیراعظم نے وزیرداخلہ محسن نقوی سے ملاقات کرکے واقعے کی تحقیقات کرکے فوری طور پر ذمہ داران کے تعین کی ہدایت کی ہے۔  
شہباز شریف کا کہنا تھا دھماکے کے ذمےداران کو تعین کرکے انہیں قرار واقعی سزا دلوائی جائے، ملک میں شرپسندی اور بے امنی پھیلانے کی ہرگزکسی کو اجازت نہیں دیں گے۔
وزیراعظم نے زخمیوں کوبہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے وزیرصحت کو معاملے کی نگرانی کا حکم دیا ہے۔