اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے این سی سی آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر محمد شعیب خان نے بتایا کہ ملزم کا تعلق اسکردو سے ہے اور مبینہ طور پر بچوں کی ویڈیوز ٹیلی گرام کے ذریعے فروخت کی جاتی تھیں۔

حکام کے مطابق متاثرہ بچوں کی عمریں تقریباً پانچ سے چھ سال تھیں، جب کہ نیٹ ورک میں چھ سے سات سال سے لے کر 15 سال تک کے بچوں کو نشانہ بنائے جانے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

این سی سی آئی اے حکام کے مطابق ایک ماہ تک عالمی اداروں اور متعلقہ فورمز کے تعاون سے جاری رہنے والی تحقیقات میں بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد کی تیاری اور آن لائن فروخت کے شواہد سامنے آئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران جانوروں پر تشدد اور ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی ویڈیوز سے متعلق پہلو بھی سامنے آیا ہے۔ اسلام آباد، ملتان اور جنوبی پنجاب میں اس نیٹ ورک کے ممکنہ روابط اور دیگر ملزمان کے کردار کی مزید تفتیش جاری ہے۔

پریس کانفرنس میں این سی سی آئی اے حکام نے ایک دوسرے کیس کا بھی ذکر کیا، جس میں مبینہ طور پر ایک لڑکی کو دو سے تین سال تک ہراساں اور بلیک میل کیا جاتا رہا۔

حکام کے مطابق شکایت موصول ہونے کے بعد کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کیا گیا۔ تاہم اس کیس میں متاثرہ لڑکی کی شناخت اور دیگر ذاتی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔

محمد شعیب خان نے والدین پر زور دیا کہ وہ بچوں کے موبائل فون اور انٹرنیٹ کے استعمال کے حوالے سے آگاہی حاصل کریں اور ان کی آن لائن سرگرمیوں پر مناسب نظر رکھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بچوں کے خلاف جرائم کا علم ہونے کے باوجود رپورٹ نہ کرنے والے والدین کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکتی ہے۔

این سی سی آئی اے نے شہریوں کو یہ ہدایت بھی کی کہ وہ اپنا ون ٹائم پاس ورڈ (او ٹی پی)، بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات اور ذاتی معلومات غیر متعلقہ افراد کے ساتھ شیئر نہ کریں۔ سائبر جرائم سے متعلق شکایات درج کرانے کے لیے این سی سی آئی اے کی ہیلپ لائن 1799 فعال ہے۔

حکام کے مطابق بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق آن لائن مواد کی تیاری اور فروخت میں ملوث افراد کے خلاف تحقیقات جاری ہیں، جب کہ مزید شواہد اور ممکنہ سہولت کاروں کی شناخت کے لیے ڈیجیٹل آلات کا فرانزک تجزیہ بھی کیا جا رہا ہے۔