عالمی خبررساں ادارے رائٹرز نے غیر جانب دار تجزیہ کاروں کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ان کا کہنا ہے کہ ڈیموکریٹس کے ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کے امکانات موجود ہیں، جب کہ سینیٹ میں بھی کامیابی ممکن ہے۔ اس صورت میں دو سال سے ریپبلکنز کے زیرِ کنٹرول کانگریس میں طاقت کا توازن تبدیل ہو سکتا ہے۔
رائٹرز کے مطابق ڈیموکریٹس کا مؤقف ہے کہ ریپبلکنز نے ٹرمپ انتظامیہ کو جنگ اور سرکاری اخراجات سے متعلق فیصلوں میں ضرورت سے زیادہ اختیار دیا ہے، حالاں کہ امریکی آئین کے تحت کانگریس کو بھی ان معاملات میں اہم اختیارات حاصل ہیں۔
اگر ڈیموکریٹس کانگریس کے کسی ایک یا دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کر لیتے ہیں تو ٹرمپ کی خارجہ پالیسی پر اثرانداز ہونے کے لیے قانون سازی، بجٹ اور انتظامیہ سے جواب طلبی جیسے اختیارات استعمال کر سکتے ہیں۔
1۔ ایران کے خلاف جنگ پر دباؤ بڑھ سکتا ہے
ٹرمپ انتظامیہ نے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے سے قبل کانگریس کی منظوری حاصل نہیں کی تھی۔ ڈیموکریٹس متعدد مرتبہ ایسی قراردادوں کی حمایت کر چکے ہیں جن میں کانگریس کی اجازت کے بغیر جنگ جاری رکھنے کی مخالفت کی گئی۔
رائٹرز کے مطابق ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد دفاعی اخراجات میں کمی یا فنڈز کی فراہمی سے متعلق شرائط کے ذریعے انتظامیہ پر دباؤ ڈال سکتے ہیں کہ وہ جنگ جاری رکھنے کے لیے کانگریس کی منظوری حاصل کرے۔
اس کے علاوہ وہ حکومتی عہدیداروں کو عوامی سماعتوں میں طلب کرکے جنگ کے مقاصد، حکمتِ عملی اور مستقبل کے منصوبوں پر جواب طلب کر سکتے ہیں۔ کانگریس میں اکثریت حاصل کرنا بذاتِ خود جنگ ختم کرنے کی ضمانت نہیں ہوگا۔ اس کے لیے متعلقہ قانونی اور سیاسی مراحل سے گزرنا پڑے گا۔
2۔ یوکرین کے لیے امریکی امداد دوبارہ شروع ہو سکتی ہے
ٹرمپ انتظامیہ نے یوکرین کے لیے براہِ راست امریکی مالی اور فوجی امداد بڑی حد تک روک رکھی ہے، حالاں کہ کانگریس میں ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن ارکان یوکرین کی حمایت کرتے رہے ہیں، جو روسی حملے کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔
رائٹرز کے مطابق روسی توانائی سے متعلق پابندیوں میں نرمی اور روسی ڈیزل کی عالمی منڈی میں واپسی کے لیے ٹرمپ کے اقدامات پر بھی کانگریس کے متعدد ارکان نے اعتراضات کیے ہیں۔
اگر ڈیموکریٹس دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کر لیتے ہیں تو وہ قانون سازی کے ایجنڈے اور ووٹنگ کے شیڈول پر زیادہ اثرانداز ہو سکیں گے۔ اس سے یوکرین کے لیے نئی امداد کی منظوری کی کوششوں کو تقویت مل سکتی ہے۔
بعض اقدامات کو صدارتی ویٹو سے بچانے کے لیے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت درکار ہو سکتی ہے۔ اس لیے امداد کی بحالی کا انحصار صرف ڈیموکریٹس کی کامیابی پر نہیں بلکہ دیگر ارکان کی حمایت اور قانون سازی کے نتائج پر بھی ہوگا۔
3۔ اسرائیل کی فوجی امداد محدود یا ختم کرنے کی کوشش
غزہ میں جنگ کے دوران فلسطینی شہریوں کی شہادتوں اور مقبوضہ مغربی کنارے میں تشدد کے واقعات کے باعث ڈیموکریٹس کے اندر اسرائیل کی فوجی حمایت پر اختلافات بڑھے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق امریکا نے حالیہ مالی سال میں اسرائیل کو 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کی۔ ڈیموکریٹک ارکان کی ایک بڑی تعداد امداد محدود کرنے یا بعض ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کے حق میں آواز اٹھا چکی ہے۔
اگر ڈیموکریٹس کانگریس میں اکثریت حاصل کرتے ہیں تو وہ اسرائیل کے لیے فوجی امداد محدود کرنے یا ختم کرنے کی تجاویز پر قانون سازی کی کوشش کر سکتے ہیں۔ بعض ارکان بھاری بموں جیسے مخصوص ہتھیاروں کی فراہمی پر پابندیوں کی حمایت بھی کرتے ہیں۔
اسرائیل کی امداد میں کسی بڑی تبدیلی کے لیے کانگریس میں درکار حمایت اور متعلقہ قانونی طریقہ کار اہم ہوگا۔ ڈیموکریٹس کے تمام ارکان اس معاملے پر یکساں مؤقف نہیں رکھتے۔
4۔ دفاعی بجٹ میں کمی اور غیر ملکی امداد کی بحالی
ڈیموکریٹس ٹرمپ انتظامیہ کے دفاعی اخراجات میں اضافے کے منصوبے اور غیر ملکی امداد میں کٹوتیوں پر بھی اعتراضات کرتے رہے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے رواں سال دفاعی بجٹ میں 67 فیصد اضافے کی درخواست کی، جس سے مجموعی بجٹ 1.5 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتا تھا۔ ڈیموکریٹس نے سینیٹ میں اس تجویز کی مخالفت کی، جس کی وجوہات میں ایران جنگ کے معاملے پر کانگریس سے مشاورت نہ ہونا اور سماجی پروگراموں کے اخراجات میں نمایاں کٹوتیاں شامل تھیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کانگریس کی منظور کردہ اربوں ڈالر کی غیر ملکی امداد بھی روک یا منسوخ کر چکی ہے۔ ڈیموکریٹس ان فنڈز کی بحالی کے لیے اقدامات کر سکتے ہیں۔
اگر انہیں کانگریس میں اکثریت ملتی ہے تو دفاعی بجٹ، غیر ملکی امداد اور دیگر اخراجات سے متعلق قانون سازی میں ان کا کردار بڑھ سکتا ہے۔ تاہم، ان اقدامات کے لیے کانگریس کے اندر حمایت اور صدارتی ردعمل بھی اہم ہوگا۔
مڈٹرم انتخابات ٹرمپ کے لیے کیوں اہم ہیں؟
امریکی وسط مدتی انتخابات 3 نومبر 2026 کو ہوں گے۔ ان انتخابات میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں پر انتخاب ہوگا۔
ان انتخابات میں ووٹر صدر کا انتخاب نہیں کرتے، بلکہ کانگریس کے ارکان منتخب کرتے ہیں۔ صدر کی مدت ختم کرنے کے لیے مڈٹرم انتخابات کافی نہیں؛ اس کے لیے الگ آئینی طریقہ کار درکار ہوتا ہے۔
کانگریس کے دونوں ایوانوں پر کس جماعت کا کنٹرول ہوگا، اس کا فیصلہ اگلے دو برس کی قانون سازی، سرکاری اخراجات اور خارجہ پالیسی پر نگرانی کو متاثر کر سکتا ہے۔
ڈیموکریٹس کی کامیابی کی صورت میں ایران جنگ، یوکرین کی امداد، اسرائیل کے لیے فوجی تعاون اور دفاعی بجٹ پر ٹرمپ انتظامیہ کو زیادہ مزاحمت کا سامنا ہو سکتا ہے۔ تاہم، یہ ممکنہ تبدیلیاں ہیں، یقینی نتائج نہیں۔ ان کا انحصار انتخابی نتائج، کانگریس میں ووٹوں کی تعداد، دونوں جماعتوں کے اندر اختلافات اور صدر کے آئینی اختیارات پر ہوگا۔







