سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں جے یو آئی کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان میں ڈھائی کروڑ سے زائد بچے تعلیم سے محروم ہیں، اسکول سے باہر بچوں کی تعداد میں پاکستان سرفہرست ہے۔ تعلیمی بحران کا دیرپا اور پائیدار حل نکالنے کے لیے پالیسی وقت کا تقاضا ہے، کروم بکس اور لیپ ٹاپ تعلیمی بحران کا حل نہیں۔
اسلم غوری نے کہا کہ حکومت کی تعلیمی ترجیحات سوالیہ نشان ہیں، تعلیمی سہولیات حکومت کا احسان نہیں بلکہ ہر بچے کا بنیادی حق ہیں۔ تعلیم کے شعبے میں طبقاتی تفریق ختم کیے بغیر ترقی ممکن نہیں۔
ترجمان نے کہا کہ اشرافیہ کے بچوں کے لیے فائیو اسٹار سہولیات والے اسکول ہیں، جبکہ غریب کے بچوں کے اسکولوں میں واش روم تک نہیں ہوتے۔ کروم بکس حاصل کرنے والے بچوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ جن ہاتھوں سے انہیں چند ہزار روپے کا پیکیج ملا، انہی ہاتھوں سے پاکستان کا ہر پیدا ہونے والا بچہ لاکھوں روپے کا مقروض ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان بچوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان حکمرانوں کی پالیسیوں کی وجہ سے ہر سال لاکھوں ذہین دماغ اپنا اور اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کے لیے بیرون ملک جاتے ہیں۔







