انتظامیہ کی جانب سے پبلک اور ہیوی ٹرانسپورٹ کو تاحکمِ ثانی معطل کر دیا گیا ہے، جبکہ اہم شاہراہوں پر کنٹرولڈ رسائی نافذ کر دی گئی ہے۔

 ایکسپریس وے، سری نگر ہائی وے، فیصل ایونیو اور ریڈ زون سے ملحقہ تمام راستوں پر سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔

 سیکیورٹی اقدامات صرف سڑکوں تک محدود نہیں بلکہ اسلام آباد کے بڑے ہوٹلز میں بھی غیر معمولی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ سرینا اور میریٹ ہوٹل نے نئی بکنگز روک دی ہیں جبکہ پہلے سے موجود مہمانوں کو بھی چیک آؤٹ کرنے کی ہدایات دی جا رہی ہیں۔

یہ تمام اقدامات ایک ممکنہ بڑی سفارتی پیش رفت سے جوڑے جا رہے ہیں، جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کا انعقاد اسلام آباد میں متوقع ہے

دوسری جانب ایرانی قیادت کی جانب سے عندیہ دیا گیا ہے کہ مذاکرات میں پیش رفت ضرور ہوئی ہے، لیکن کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔

 ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی دباؤ میں آ کر اپنے قومی مفادات یا خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کرے گا، اور سفارت کاری کے ساتھ اپنی عسکری صلاحیت برقرار رکھے گا۔

 آبنائے ہرمز پر کنٹرول کو بھی ایران ایک اہم اسٹریٹجک عنصر کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن سفارتی حل چاہتا ہے، تاہم ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دباؤ کے طور پر استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ 

امریکہ نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے مؤقف میں لچک پیدا کرے۔

پاکستان اس تمام عمل میں ایک اہم ثالث کے طور پر سامنے آ رہا ہے اور اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم کوشش قرار دیے جا رہے ہیں۔