عدالت نے سزا معطلی کی درخواستوں پر بھی نوٹس جاری کیے اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو جواب جمع کرانے کی ہدایت کی۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد آصف نے کی۔ سماعت کے دوران ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی جانب سے فیصل صدیقی، زینب جنجوعہ اور دیگر وکلا پیش ہوئے۔
دورانِ سماعت وکیل فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹرانسفر کی درخواست ابھی زیرِ التوا تھی تاہم ٹرائل کورٹ نے فیصلہ سنا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دو گواہوں کے بیانات ملزمان کی عدم موجودگی میں قلمبند کیے گئے، جبکہ فیصلے کے اجرا کے بعد ٹرائل جج کی جانب سے ایک پیراگراف نکالے جانے کا معاملہ بھی غیر معمولی ہے۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست مسترد کردی
فیصل صدیقی نے عدالت سے استدعا کی کہ اگر سزا دینا مقصود ہو تو دی جائے، لیکن ٹرائل کا عمل مکمل اور شفاف ہونا چاہیے۔ اس موقع پر جسٹس محمد آصف نے ریمارکس دیے کہ نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں، ریکارڈ پیش ہونے دیا جائے۔
وکیل نے سزا معطلی کی درخواست پر جلد سماعت مقرر کرنے کی بھی استدعا کی اور کہا کہ وہ کراچی سے پیش ہوتے ہیں، اس لیے تاریخ ان کی دستیابی کے مطابق رکھی جائے۔ عدالت نے یقین دہانی کرائی کہ مناسب تاریخ دے دی جائے گی، بعد ازاں مزید سماعت ملتوی کر دی گئی۔







