سماعت کے دوران جسٹس ارباب محمد طاہر نے ملازمین کی درخواست پر 2 صفحات پر مشتمل تفصیلی حکمنامہ جاری کیا۔ درخواست گزاروں کی جانب سے وکیل محمد آصف گجر عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ وزارت خزانہ اور اکاؤنٹنٹ جنرل آفس نے خصوصی عدالتوں اور ٹربیونلز کے ملازمین کے الاؤنسز روک دیے تھے، تاہم عدالت میں رجوع کرنے والے ملازمین کو ادائیگیاں جاری رکھی گئی ہیں۔
یاد رہے کہ جو ملازمین عدالت میں پیش نہیں ہوئے تھے، ان کے جوڈیشل اور یوٹیلٹی الاؤنسز روک دیے گئے تھے۔ لاہور ہائی کورٹ کے ملتان اور بہاولپور بنچز نے بھی پہلے ہی اکاؤنٹنٹ جنرل آفس کے احکامات معطل کر رکھے ہیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے سماعت کی اگلی تاریخ 9 فروری مقرر کی ہے۔ اس کیس میں کسٹم اپیلیٹ ٹربیونل کے ملازمین، جن میں محمد سفیان بھی شامل ہیں، نے اپنے الاؤنسز کے لیے عدالت سے رجوع کر رکھا ہے۔







