تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا اور بعد میں قومی ترانے کی دھن کے ساتھ اسے مزید باضابطہ بنایا گیا۔ عدالتی حلقوں اور قانونی برادری کے اہم شخصیات نے تقریب میں شرکت کی، جس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، اسلام آباد ہائیکورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ کے دیگر ججز، اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے صدر واجد گیلانی اور سیکرٹری منظور ججہ شامل تھے۔

رجسٹرار ہائیکورٹ نے حلف برداری کے دوران ججز کی مستقل تعیناتی کا نوٹیفیکیشن پڑھ کر تقریب میں سنایا۔ نوٹیفیکیشن کے مطابق وزارت قانون کی سفارشات پر صدر مملکت کی منظوری کے بعد تینوں ججز کو مستقل طور پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں خدمات انجام دینے کے لیے مقرر کیا گیا۔

چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے تقریب کے دوران نئے ججز کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ میں شفاف اور مضبوط نظام قائم کرنے کے لیے تجربہ کار اور مستقل ججز کی تعیناتی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات عدالتی نظام میں استحکام اور بہتر عدالتی خدمات کی فراہمی کے لیے اہم پیش رفت ہیں۔

تینوں ججز نے مستقل تعیناتی سے قبل تقریباً ایک سال ایڈہاک ججز کے طور پر خدمات انجام دی تھیں۔ اب وہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے مختلف بینچز میں اہم مقدمات کی سماعت کریں گے، جس سے عدالت میں فیصلوں کی رفتار اور شفافیت میں بہتری آنے کی توقع ہے۔

تقریب میں قانونی برادری نے نئے ججز کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ تعیناتی عدلیہ میں اعتماد بڑھانے اور عدالتی معیار کو مزید بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگی۔ یہ اقدام پاکستان کی عدالتی تاریخ میں استحکام کی جانب ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔