اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ حملے کی تحقیقات میں بڑی پیشرفت ہوئی ہے اور آئی بی اور سی ٹی ڈی نے حملے کے فوری بعد چار ملزمان کو گرفتار کیا، جو کہ ساجد اللہ عرف شینا، کامران خان، محمد ذالی اور شاہ منیر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مرکزی ہینڈلر ساجد اللہ عرف شینا خودکش بمبار اور جیکٹ لے کر آیا اور دہشتگرد اسلام آباد کے مضافات کو ٹارگٹ کر رہے تھے۔ خودکش حملہ آور افغانستان کا رہائشی تھا اور پکڑے گئے دیگر دہشتگرد بھی کسی نہ کسی طرح اس حملے میں شامل تھے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ ساجد اللہ عرف شینا نے افغانستان جا کر داد اللہ سے ملاقات کی اور اسی کے ذریعے نور ولی محسود کے احکامات حاصل کیے گئے۔ حملے کے لیے خودکش جیکٹ عثمان شنواری کو دی گئی، جو ننگرہار افغانستان کا رہائشی تھا اور جی-11 میں حملہ انجام دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشتگرد بڑا نقصان کرنے میں ناکام رہے اور بروقت کارروائی کی وجہ سے بڑی تباہی سے بچا گیا۔ ساجد اللہ عرف شینا کا اعترافی بیان بھی پریس کانفرنس میں دکھایا گیا، جس میں اس نے افغانستان میں تربیت اور اسلام آباد حملے کی مکمل منصوبہ بندی کی تفصیلات بتائیں۔
اسلام آباد کچہری حملےمیں ملوث مجرم ساجد اللہ عرف شینا کا اعترافی بیان۔ ساجد اللہ کیسے افغانستان پہنچا اور کیسے حملے کی پلاننگ ہوئی، سب بتا دیا pic.twitter.com/vnuRqbwdJG
— Mehwish Qamas Khan (@MehwishQamas) November 25, 2025
عطاتارڑ کہا کہ دہشتگردوں کا رابطہ ایک ایپ کے ذریعے تھا اور پاک فوج دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دے رہی ہے۔
انہوں نے ساجد اللہ نے 2015 میں تحریک طالبان افغانستان میں شمولیت اختیار کی، ساجد اللہ نے افغانستان کے اندر مختلف ٹریننگ کیمپس میں تربیت حاصل کی، 2023 میں ساجد اللہ نے داد اللہ نامی شخص سے ملاقات کی۔







