ذرائع کے مطابق دھماکہ سہ پہر تقریباً 12 بجکر 45 منٹ پر پیش آیا، تاہم افغانستان سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر اس واقعے سے متعلق صبح سویرے سے ہی سرگرمیاں دیکھی جا رہی تھیں۔

اطلاعات کے مطابق صبح 6 بجکر 45 منٹ پر افغان طالبان سے وابستہ ایک ایکس (سابق ٹوئٹر) اکاؤنٹ سے “Coming soon Islamabad” کے عنوان سے دھمکی آمیز پیغام پوسٹ کیا گیا۔ اسی نوعیت کے پیغامات افغان ملٹری پریڈ کے موقع پر بھی سامنے آئے تھے، جن میں لاہور پر افغان جھنڈا لہرانے اور اسلام آباد کو جلانے کی باتیں کی گئی تھیں۔

افغان نیوز ہینڈل “آماج نیوز” نے دو نومبر کو ان دھمکی آمیز پیغامات کو شیئر کیا، جب کہ طالبان کے ایک اور اکاؤنٹ “خراسان العربی” نے اسلام آباد دھماکے کے فوراً بعد "بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" کے الفاظ کے ساتھ ایک پوسٹ کی،جو کہ افغان رجیم کے گھناؤنے عزائم کی علامت ہے۔

دھماکے سے قبل کی گئی ان افغان سوشل میڈیا پوسٹس سے واضح ہوتا ہے کہ افغان طالبان انتظامیہ دہشت گرد عناصر کی پشت پناہی سے باز نہیں آ رہی۔

ابتدائی رپورٹس کے مطابق دھماکا کچہری کے باہر ہوا جس کی زد میں آس پاس کھڑے لوگ آئے۔

پمز ہسپتال کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک 12 افراد کی لاشیں اور 20 سے 22 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے، جب کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے 27 زخمیوں کی تصدیق کی ہے۔

اسلام آباد میں خودکش دھماکے کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آگئی، شلوار قمیض میں ملبوس بمبار کو دیکھا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب اسلام آباد میں جوڈیشل کمپلیکس کے قریب خودکش دھماکے کی سی سی ٹی وی منظر عام پر آگئی ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے خودکش حملہ آور کا سر بھی مل گیا ہے۔

سی سی ٹی وی فوٹیج  میں دیکھا جاسکتا ہے کہ خودکش حملہ آور پہلے درخت کی اوٹ میں کھڑا رہا، پھر اس نے آگے بڑھنے کی کوشش کی۔

ویڈیو میں شلوار قمیض میں ملبوس خودکش بمبار کو واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے، دھماکے کے بعد جائے وقوعہ پر بھگدڑ مچ گئی۔

واضح رہے کہ اس واقعے سے ایک روز قبل وانا کیڈٹ کالج پر بھی ایک خودکش حملہ کیا گیا تھا، جس کے بعد کیڈٹ کالج میں تین دہشت گردوں کے خلاف آپریشن اور 535 افراد کے ریسکیو کی کارروائی جاری ہے۔