ذرائع کے مطابق بات چیت دو مرکزی تجاویز کے گرد گھوم رہی ہے، جن میں ایران کا 10 نکاتی فریم ورک اور امریکا کا 15 نکاتی منصوبہ شامل ہے۔ اگرچہ دونوں فریق مذاکرات پر آمادہ ہیں، تاہم کئی بنیادی امور پر اختلافات بدستور موجود ہیں۔
مذاکرات میں سب سے نمایاں نکتہ ایران کا جوہری پروگرام ہے۔ امریکا اس بات کی واضح ضمانت چاہتا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا، اور اس کے لیے یورینیم افزودگی پر سخت پابندیاں اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی کڑی نگرانی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ دوسری جانب ایران اپنے جوہری پروگرام کو پرامن قرار دیتے ہوئے افزودگی کے حق کو اپنی خودمختاری کا حصہ سمجھتا ہے۔
اقتصادی پابندیاں بھی ایک بڑا تنازع بنی ہوئی ہیں۔ ایران فوری طور پر تمام امریکی اور بین الاقوامی پابندیوں کے خاتمے اور بیرون ملک منجمد اثاثوں کی واپسی کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ امریکا مرحلہ وار نرمی کا حامی ہے، جسے ایران کی جانب سے شرائط پوری کرنے سے مشروط کیا جا رہا ہے۔
آبنائے ہرمز کا معاملہ بھی مذاکرات میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ ایران اس اہم سمندری گزرگاہ پر اپنے کردار کو تسلیم کروانا چاہتا ہے، جب کہ امریکا عالمی جہاز رانی کے لیے مکمل آزادی اور تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دے رہا ہے۔
خطے میں اثر و رسوخ کے حوالے سے بھی دونوں ممالک کے درمیان اختلافات موجود ہیں۔ امریکا مشرق وسطیٰ میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کی پشت پناہی ختم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ ایران خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ان گروہوں کے خلاف کارروائیوں کے خاتمے پر زور دیتا ہے۔
ایران نے امریکی افواج کے انخلا اور عدم جارحیت کی ضمانت کا مطالبہ بھی اٹھایا ہے، تاہم امریکا نے اس حوالے سے تاحال کوئی واضح آمادگی ظاہر نہیں کی۔
بیلسٹک میزائل پروگرام ایک اور متنازع پہلو ہے، جہاں امریکا پابندیوں کا خواہاں ہے جبکہ ایران اسے اپنے دفاعی حق کا حصہ قرار دیتا ہے۔
ذرائع کے مطابق حالیہ کشیدگی سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کا معاملہ بھی زیر غور آ سکتا ہے، جبکہ امریکا اپنے مفادات اور اتحادیوں پر حملوں کے حوالے سے جوابدہی کا مطالبہ کر سکتا ہے۔
دو ہفتوں کی جنگ بندی کی مدت اختتام کے قریب ہے اور سفارتی حلقوں کا ماننا ہے کہ پیش رفت مرحلہ وار ہو سکتی ہے، جس کا آغاز اعتماد سازی کے اقدامات سے ہوگا۔ فوری طور پر کسی بڑے بریک تھرو کی توقع کم ہے، تاہم مذاکرات کے تسلسل اور جنگ بندی میں توسیع کے امکانات موجود ہیں۔







