سفارتی ذرائع کے مطابق امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، جبکہ ان کے ہمراہ مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی خصوصی نمائندہ اسٹیو وٹکوف بھی موجود ہیں۔ دوسری جانب ایرانی وفد میں وزیر خارجہ عباس عراقچی اور اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف شامل ہیں، جو اہم مذاکراتی عمل میں شریک ہیں۔
ایرانی وفد کی اسلام آباد آمد پر اعلیٰ پاکستانی قیادت نے پرتپاک استقبال کیا۔ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، وزیر داخلہ محسن نقوی اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے معزز مہمانوں کا خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر پاکستان کی جانب سے بھرپور سیکیورٹی اور پروٹوکول فراہم کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے نہ صرف ان مذاکرات کے انعقاد میں مرکزی کردار ادا کیا بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ دو ہفتوں کی جنگ بندی کو ممکن بنانے میں بھی کلیدی سفارتی کوششیں کیں۔ یہی وجہ ہے کہ یورپی ممالک سمیت عالمی برادری پاکستان کی ان کاوشوں کو سراہ رہی ہے اور اسے خطے میں امن کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے فرانس اور نیدرلینڈز کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک رابطوں میں اس امید کا اظہار کیا کہ مذاکرات تعمیری انداز میں آگے بڑھیں گے اور فریقین کے درمیان کسی قابلِ عمل اور دیرپا حل تک پہنچا جا سکے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات، اہم نکات کیا ہوں گے؟
حکومتی ذرائع کے مطابق مذاکرات کے شرکا اور بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں کے لیے آن ارائیول ویزا کی خصوصی سہولت فراہم کی گئی ہے، تاکہ عالمی برادری کو اس اہم عمل میں شرکت اور کوریج میں آسانی ہو۔
دوسری جانب سیکیورٹی کے سخت انتظامات کے تحت اسلام آباد کے ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے، جبکہ ہزاروں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، غیر ملکی وفود کو ہر ممکن تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مذاکرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں بلکہ پاکستان کی عالمی سفارتی حیثیت کو بھی مزید مضبوط بنائیں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ایک بار پھر عالمی سطح پر اہم مذاکراتی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے، جو ملک کے مثبت امیج کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہے۔
عالمی برادری کی نظریں اس وقت اسلام آباد پر مرکوز ہیں، جہاں ہونے والے یہ مذاکرات مستقبل میں خطے کے امن اور استحکام کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔







