ذرائع کے مطابق جُڑواں شہر اسلام آباد اور راولپنڈی میں صفائی ستھرائی اور تزئین و آرائش کا عمل جاری ہے، جبکہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر جمعرات کی رات سے پبلک ٹرانسپورٹ اڈے عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے تحت ایک ہفتے کے لیے دونوں شہروں میں آنے اور جانے والی پبلک ٹرانسپورٹ محدود رہے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ جمعے سے دیگر شہروں سے آنے والی ٹرانسپورٹ کو بھی اسلام آباد اور راولپنڈی میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ میٹرو بس سروس کی عارضی بندش کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے پولیس کی اضافی نفری تعینات کی جا رہی ہے اور پاکستان رینجرز اور فرنٹیئر کور کی خدمات بھی حاصل کی جائیں گی۔ حکام کے مطابق ٹرانسپورٹرز کے ساتھ بھی اس حوالے سے مشاورت مکمل کی جا چکی ہے۔
دوسری جانب شہر کے اہم مقامات، خصوصاً سرینا ہوٹل اسلام آباد کے اطراف اور ممکنہ وفود کی آمد کے راستوں پر تزئین و آرائش کا کام تیز کر دیا گیا ہے۔
اگرچہ حکومت پاکستان کی جانب سے تاحال مذاکرات کے دوسرے دور کے حوالے سے باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، تاہم ڈونلڈ ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ کی جانب سے عندیہ دیا گیا ہے کہ آئندہ مرحلہ بھی اسلام آباد میں منعقد ہو سکتا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ طے پا گیا تو وہ خود اسلام آباد کا دورہ کرنے پر غور کر سکتے ہیں، جس سے ان مذاکرات کی سفارتی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔







