ریفائنری حکام کے مطابق شہر میں مختلف شاہراہوں کی بندش اور ٹریفک کی محدود نقل و حرکت کے باعث آئل ٹینکرز کی بروقت آمدورفت ممکن نہیں رہی، جس سے خام تیل کی فراہمی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں نہ صرف خام تیل کی وصولی میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے بلکہ ریفائنڈ مصنوعات کے ذخائر میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے۔

کمپنی کے اعلامیے کے مطابق اس غیر معمولی صورتحال کے باعث 32 ہزار 400 بیرل یومیہ صلاحیت رکھنے والے مین کروڈ ڈسٹلیشن یونٹ (CDU) کو عارضی طور پر بند کرنا پڑا ہے۔ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ یونٹ اس وقت تک بند رہے گا جب تک ٹریفک کی صورتحال معمول پر نہیں آ جاتی اور سپلائی چین بحال نہیں ہو جاتی۔

اٹک ریفائنری نے اس پیش رفت سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بھی باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے تاکہ سرمایہ کاروں کو صورتحال سے متعلق بروقت معلومات فراہم کی جا سکیں۔

ذرائع کے مطابق ٹریفک بندشوں کے باعث موٹر اسپرٹ اور ہائی اسپیڈ ڈیزل سمیت اہم پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس سے آپریشنل دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔

واضح رہے  کہ اگر یہ صورتحال طویل ہوئی تو ملک میں ایندھن کی سپلائی چین پر مزید اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، تاہم حکومتی سطح پر ٹریفک کی بحالی اور مسائل کے حل کے لیے اقدامات جاری ہیں۔