سفارتی ماہرین کے مطابق یہ مذاکرات ایک ہائی پاور اور ہائی اسٹیکس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، جہاں ہونے والے فیصلے آنے والے وقت میں خطے کے امن، توانائی کی ترسیل اور عالمی اقتصادی استحکام کی سمت کا تعین کر سکتے ہیں۔ پاکستان اس موقع پر ایک غیر جانب دار ثالث کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے، جسے عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔

مذاکرات میں امریکا کی نمائندگی نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، جو وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔ جے ڈی وینس کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی اور بااثر ساتھیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق وہ امریکی خارجہ پالیسی میں ایک مضبوط اور واضح مؤقف رکھنے والے رہنما ہیں، خاص طور پر بیرونی مداخلت کے حوالے سے ان کی رائے نمایاں رہی ہے۔

امریکی ٹیم میں مشرقِ وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف بھی شامل ہیں، جو ماضی میں ہونے والے مذاکرات میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں،اگرچہ ایران کی جانب سے ان پر بعض تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے، تاہم واشنگٹن کے 15 نکاتی منصوبے میں ان کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

اس کے علاوہ صدر ٹرمپ کے داماد اور مشیر جیرڈ کشنر بھی وفد کا حصہ ہیں، جنہیں مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی معاملات کا خاصا تجربہ حاصل ہے۔ وہ ماضی میں ابراہیمی معاہدات جیسے اہم اقدامات میں مرکزی کردار ادا کر چکے ہیں اور خلیجی ممالک کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات بھی خاصی اہمیت رکھتے ہیں۔

دوسری جانب ایرانی وفد میں بھی اہم اور بااثر شخصیات شامل ہیں۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی ان مذاکرات میں ایران کا مؤقف پیش کر رہے ہیں۔ عباس عراقچی کو ایک تجربہ کار اور سخت مذاکرات کار سمجھا جاتا ہے، جو 2015 کے جوہری معاہدے میں بھی کلیدی کردار ادا کر چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق وہ ایران کے اندرونی سخت گیر حلقوں اور مغربی دنیا کے درمیان ایک توازن قائم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد مذاکرات: امریکا اور ایران کے مؤقف اور مطالبات میں کتنا فرق ہے؟

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف بھی وفد میں شامل ہیں، جنہیں ایران کی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کا ایک اہم ستون تصور کیا جاتا ہے۔ ان کا عسکری اور سیاسی پس منظر انہیں ان مذاکرات میں ایک مؤثر اور طاقتور آواز بناتا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان نے ان مذاکرات کو ممکن بنانے میں اہم سفارتی کوششیں کی ہیں اور فریقین کے درمیان رابطوں میں سہولت فراہم کی ہے۔ حالیہ جنگ بندی میں بھی پاکستان کے کردار کو سراہا گیا، جس کے بعد اسلام آباد کو ان مذاکرات کے لیے ایک موزوں مقام قرار دیا گیا۔

سیکیورٹی کے پیش نظر اسلام آباد کے ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کیا گیا ہے، جبکہ غیر ملکی وفود کی حفاظت کے لیے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ حکومت کی جانب سے شرکا اور بین الاقوامی میڈیا کے لیے خصوصی سہولیات بھی فراہم کی گئی ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا عمل آسان نہیں ہوگا، کیونکہ دونوں فریق اپنے اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیاں، علاقائی سیکیورٹی اور آبنائے ہرمز جیسے اہم معاملات پر اختلافات موجود ہیں۔

مزید پڑھیں: نائب صدر جے ڈی وینس کی زیرِ قیادت امریکی وفد اسلام آباد پہنچ گیا، نائب وزیرِ اعظم و فیلڈ مارشل کا استقبال

ماہرین کے مطابق اصل چیلنج یہ ہے کہ آیا پاکستان دونوں فریقوں کو کسی درمیانی راستے پر لانے میں کامیاب ہو پاتا ہے یا نہیں۔ اگر یہ کوشش کامیاب ہو جاتی ہے تو نہ صرف خطے میں امن کی راہ ہموار ہوگی بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی حیثیت بھی نمایاں طور پر مستحکم ہو جائے گی۔

فی الحال دنیا کی نظریں اسلام آباد پر مرکوز ہیں، جہاں ہونے والے یہ مذاکرات مستقبل کی عالمی سیاست اور معیشت کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں