ڈی جی ماحولیات پنجاب سید موسیٰ رضا کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں تمام ریجنل دفاتر کو ہدایت دی گئی کہ اسموگ سیزن سے پہلے سخت نگرانی، بھرپور فیلڈ آپریشنز اور ماحولیاتی قوانین پر بلاامتیاز عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ فضائی آلودگی میں نمایاں کمی لائی جا سکے۔
ڈی جی ماحولیات نے کہا کہ اسموگ شروع ہونے کے بعد اقدامات کرنے کے بجائے پیشگی کارروائیاں زیادہ مؤثر ثابت ہوں گی، اس لیے ماحولیاتی خلاف ورزیوں پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے۔
اجلاس کے بعد سید موسیٰ رضا نے مختلف اضلاع میں اینٹوں کے بھٹوں کا دورہ کیا اور افسران کو ہدایت کی کہ غیرقانونی اور آلودگی پھیلانے والے بھٹوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے، تمام بھٹوں پر منظور شدہ زگ زیگ ٹیکنالوجی کا استعمال یقینی بنایا جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی میں تاخیر نہ کی جائے۔
انہوں نے زیرِ تعمیر منصوبوں پر نصب فوگ کینن مشینوں کا بھی جائزہ لیا اور ہدایت کی کہ جہاں فضائی آلودگی یا ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) مقررہ حد سے تجاوز کرے وہاں اینٹی اسموگ گنز اور مسٹ اسپرنکلرز مسلسل چلائے جائیں تاکہ گردوغبار کو کم کیا جا سکے۔
ڈی جی ماحولیات نے صنعتی اداروں کو بھی خبردار کیا کہ تمام فیکٹریاں اپنے آلودگی کنٹرول اور فلٹریشن سسٹمز ہر وقت فعال رکھیں، بصورت دیگر انہیں سیل کرنے، مقدمات درج کرنے اور جرمانے عائد کرنے سمیت سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر دھواں چھوڑنے والی ہیوی ٹرانسپورٹ گاڑیوں کی سخت چیکنگ کی بھی ہدایت دی اور کہا کہ مقررہ اخراجی معیار سے تجاوز کرنے والی گاڑیوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ماحولیاتی تحفظ ایجنسی پنجاب کے مطابق یکم جنوری سے 25 جولائی 2026 تک 45 ہزار 736 اینٹوں کے بھٹوں کا معائنہ کیا گیا۔ 777 بھٹے مسمار، 419 سیل اور 762 مقدمات درج کیے گئے۔ بھٹہ مالکان پر 6 کروڑ 77 لاکھ 60 ہزار روپے سے زائد جرمانے عائد کیے گئے۔
صنعتی شعبے میں 27 ہزار 384 صنعتی یونٹس کی انسپکشن کی گئی۔ 694 یونٹس سیل، 272 مسمار اور 175 مقدمات درج کیے گئے۔ ماحولیاتی خلاف ورزیوں پر 12 کروڑ 30 لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا۔
پلاسٹک آلودگی کے خلاف 18 ہزار 293 انسپکشنز کی گئیں۔ 1,989 نوٹس جاری کیے گئے۔ 2 لاکھ 29 ہزار 713 ممنوعہ پلاسٹک اشیا ضبط کی گئیں۔ 2,725 مقامات سیل اور 66 مقدمات درج کیے گئے۔ مجموعی طور پر 2 کروڑ 29 لاکھ 73 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔
زیرِ تعمیر منصوبوں کی نگرانی کے دوران 336 مقامات کا معائنہ کیا گیا، 249 نوٹس جاری ہوئے، 16 سائٹس سیل کی گئیں جب کہ 173 مقامات پر گرد دبانے کے لیے مسٹ اسپرنکلر سسٹم فعال پایا گیا۔
اسی طرح پانی کی آلودگی کے خلاف مہم میں 744 مقامات کا معائنہ کیا گیا، 43 یونٹس سیل، 2 مقدمات درج اور 10 لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا، جب کہ 69 ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس فعال پائے گئے۔
گاڑیوں کے دھویں کی جانچ کے دوران 3 ہزار 930 گاڑیوں کا معائنہ کیا گیا جن میں سے 13 گاڑیاں اخراجی معیار پر پوری نہ اتریں۔
ڈی جی ماحولیات سید موسیٰ رضا نے کہا کہ پنجاب حکومت سائنسی بنیادوں پر نگرانی، جدید ٹیکنالوجی اور مربوط فیلڈ آپریشنز کے ذریعے اسموگ پر قابو پانے کے لیے پیشگی اقدامات کر رہی ہے تاکہ موسمِ سرما سے قبل فضائی معیار بہتر بنایا جا سکے۔







