اسرائیلی فوج نے غزہ کے لیے امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کو روک لیا اور اس میں شریک متعدد کارکنوں کو اسرائیلی بندرگاہ منتقل کر دیا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اسرائیلی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک ویڈیو میں سویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ کو ایک کشتی میں فوجیوں کے حصار میں بیٹھے دیکھا جا سکتا ہے۔
وزارت خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پیغام میں کہا کہ حماس صمود فلوٹیلا میں شامل کئی کشتیوں کو بحفاظت روکا گیا ہے اور انہیں بندرگاہ پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
پیغام میں یہ بھی بتایا گیا کہ گریٹا تھنبرگ اور ان کے ساتھی محفوظ ہیں اور ان کی صحت بھی بہتر ہے۔
چالیس سے زیادہ کشتیوں پر مشتمل اس فلوٹیلا میں ادویات اور خوراک غزہ پہنچانے کے لیے تقریباً 500 اراکین پارلیمنٹ، وکلاء اور سماجی کارکن شریک تھے۔
اس قافلے کی مدد کے لیے ترکیہ، سپین اور اٹلی نے اپنی کشتیاں اور ڈرون بھی بھیجے تھے۔
فلوٹیلا کے منتظمین کے مطابق اسرائیلی فوج نے واٹر کینن سمیت جارحانہ ہتھکنڈے استعمال کیے اور متعدد کشتیوں کو بین الاقوامی پانیوں میں غیر قانونی طور پر روکا گیا، تاہم کسی کو نقصان نہیں پہنچا۔

منتظمین نے الزام لگایا کہ اسرائیلی بحریہ نے ماریا کرسٹینا کشتی کو ڈبونے کی کوشش بھی کی اور کشتیوں پر نصب براہ راست مناظر نشر کرنے والے کیمروں کو ہٹا دیا گیا۔
ترکیہ نے اس کارروائی کو دہشت گردی کی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے معصوم شہریوں کی زندگیاں خطرے میں ڈالی گئیں، جبکہ سپین نے اسرائیل سے کارکنوں کے تحفظ اور ان کے حقوق کی پاسداری کا مطالبہ کیا ہے۔
آئرلینڈ کے وزیر خارجہ سائمن ہیرس نے ایکس پر لکھا کہ یہ رپورٹیں بہت تشویشناک ہیں کیونکہ یہ فلوٹیلا ایک پرامن مشن ہے جو غزہ میں انسانی تباہی پر روشنی ڈالنے کے لیے نکلا تھا۔
اطلاعات کے مطابق امداد لے جانے والی کشتیوں کو غزہ سے تقریباً 70 میل کے فاصلے پر اس مقام پر روکا گیا جہاں اسرائیلی پولیس کسی بھی کشتی کو داخل نہیں ہونے دیتی۔
اسرائیلی بحریہ نے فلوٹیلا کو خبردار کیا تھا کہ وہ ایک جنگی زون کے قریب پہنچ رہے ہیں اور ناکہ بندی کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ بحریہ نے انہیں راستہ بدلنے کو کہا تھا اور یہ پیشکش بھی کی تھی کہ امداد کو محفوظ راستوں کے ذریعے پرامن طور پر غزہ پہنچایا جا سکتا ہے۔
اسرائیلی حملے کے بعد پورے اٹلی میں مظاہرے شروع ہوگئے ہیں جبکہ ترکیہ نے اپنے اور دیگر افراد کی رہائی کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ فلوٹیلا کے منتظمین نے اسرائیلی اقدام کو جنگی جرم قرار دیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے گوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی فوج کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
وزیراعظم نے سوشل میڈیا پرجاری پیغام میں کہا کہ اس فلوٹیلا میں 44 ممالک کے 450 سے زائد امدادی کارکن سوار تھے جنہیں اسرائیلی فوج نے غیرقانونی طور پر حراست میں لے لیا ہے۔
انہوں نے ان تمام کارکنان کی فوری رہائی اور فلسطینیوں تک امداد کی بلا تعطل ترسیل کا مطالبہ کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ امداد مستحق افراد تک پہنچنی چاہیے، اسرائیلی بربریت کو فوری روکنا اور فلسطین میں پائیدار امن کے قیام کو یقینی بنانا ہی وقت کا سب سے بڑا تقاضا ہے۔
ادھر ترکیہ نے بھی فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اقدام کو دہشت گردی قرار دےدیا۔
یاد رہے کہ اسرائیلی بحریہ نے گلوبل صمود فلوٹیلا کی کئی کشتیوں پر دھاوا بول کر تحویل میں لے لیا جس کے بعد جہازوں اور کشتیوں میں سوار افراد کو حراست میں لے کر اسرائیلی پورٹ منتقل کردیا۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی فوج کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے کھلی دہشت گردی قرار دیا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے سوال اٹھایا کہ کہاں ہے امن کا پیامبر امریکہ، جس کا لاڈلا اسرائیل انسانی ہمدردی کی امداد بھی روک رہا ہے؟ کیا یہی انسانیت، جمہوریت، انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون ہے؟
انہوں نے مسلم حکمرانوں کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ٹرمپ کی محبت میں ڈوبے ہوئے مسلم حکمران اس نازک موقع پر کہاں ہیں؟







