انہوں نے ان خیالات کا اظہار ملتان کے گول باغ چوک میں ممبر سازی مہم کے سلسلے میں قائم کیمپ کے دورے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک بھر میں ممبر سازی مہم چلا رہی ہے اور ہدف 50 لاکھ ممبران بنانے کا ہے، جس کے لیے 50 ہزار کمیٹیاں تشکیل دی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 80 سالہ قومی تاریخ یہ واضح کر چکی ہے کہ صرف حکمران چہروں کی تبدیلی سے کچھ نہیں بدلتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں 33 سال مارشل لا کا دور رہا اور تمام بڑی سیاسی جماعتیں کسی نہ کسی مرحلے پر مارشل لا قوتوں کی حمایت کرتی رہی ہیں۔
اس موقع پر امیر جماعت اسلامی پنجاب جنوبی سید ذیشان اختر، سیکرٹری جنرل ثنا اللہ سحرانی، امیر ضلع ملتان صہیب عمار صدیقی، صدر ضلع ملتان حافظ محمد اسلم، نائب امیر ضلع چودھری اطہر عزیز سمیت دیگر قائدین بھی موجود تھے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ملک کا نظام جاگیرداروں، وڈیروں اور اشرافیہ کے قبضے میں ہے جنہیں انگریز دور میں طاقت اور زمینیں دے کر مضبوط کیا گیا تھا اور وہی نوآبادیاتی ذہنیت آج بھی موجود ہے۔ انہوں نے جنوبی پنجاب کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان جاگیرداروں کی حقیقت سے بخوبی واقف ہیں۔
انہوں نے بیوروکریسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ افسران کو طاقت کے استعمال کی تربیت دی جاتی ہے، جس کی مثال ملتان اور دیگر شہروں میں ریڑھی بانوں کے ساتھ ناروا سلوک سے دیکھی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق اختیارات ملتے ہی افسر شاہی کا رویہ بدل جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملتان میں ایک ہی خاندان کے تین افراد قومی اسمبلی میں موجود ہیں اور چیئرمین سینیٹ بھی اسی خاندان سے ہیں، جب کہ پیپلز پارٹی کو انہوں نے وڈیروں کی جماعت قرار دیا۔ مسلم لیگ (ن) پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک طرف اشتہارات کی بھرمار ہے اور دوسری طرف 11 ارب روپے کا جہاز خریدا جا رہا ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کسی پاکستانی جماعت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف آواز نہیں اٹھائی، جب کہ فلسطین میں 80 ہزار افراد کی شہادت کے باوجود کوئی بڑی جماعت احتجاج کے لیے سڑکوں پر نہیں نکلی۔
انہوں نے کہا کہ ملک کا قرضہ گزشتہ چار سال میں 55 ہزار ارب روپے سے بڑھ کر 85 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکا ہے اور سالانہ 8 ہزار ارب روپے صرف سود کی ادائیگی پر خرچ ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق شرح سود میں ایک فیصد اضافہ بھی 540 ارب روپے کا بوجھ بڑھا دیتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت موٹر سائیکل سواروں سے 153 روپے فی لیٹر ٹیکس وصول کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں وہ سالانہ 450 ارب روپے ادا کرتے ہیں، جب کہ تنخواہ دار طبقہ 650 ارب روپے ٹیکس دیتا ہے۔ اس کے برعکس آئی پی پیز کو 2 ہزار ارب روپے کی ادائیگیاں کی جاتی ہیں، جبکہ ایل این جی معاہدوں کو انہوں نے فراڈ قرار دیا۔
تعلیم کے شعبے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صرف ملتان میں ڈھائی لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، حالانکہ آئین کے مطابق 5 سے 16 سال تک کے بچوں کو تعلیم دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے سرکاری اسکولوں کی آؤٹ سورسنگ پر بھی تنقید کی۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اقتدار میں آ کر اسکول سے یونیورسٹی تک مفت تعلیم فراہم کرے گی، اور بنو قابل پروگرام کے تحت ہزاروں بچوں کو مفت آئی ٹی تعلیم دی جا چکی ہے۔
آخر میں انہوں نے اعلان کیا کہ عید کے بعد آئی پی پیز مافیا اور کسانوں کے استحصال میں ملوث مڈل مین مافیا کے خلاف ملک گیر تحریک چلائی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ زرعی ترقی کی شرح دو سال پہلے 6.4 فیصد تھی جو اب کم ہو کر 0.5 فیصد رہ گئی ہے، جو حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک طرف سولر پر ٹیکس عائد کیے جا رہے ہیں اور دوسری طرف اربوں روپے کے اخراجات ہو رہے ہیں۔ جو جماعتیں اپنی صفوں میں میرٹ قائم نہیں کر سکتیں وہ ملک میں میرٹ کیسے نافذ کریں گی۔







