وزیراعظم نے چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اور پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف سے علیحدہ علیحدہ گفتگو کی۔

ٹیلیفونک رابطوں کے دوران وزیراعظم نے مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، مادرِ وطن کے دفاع کے لیے قربانیوں اور قومی سلامتی کے لیے خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم اپنے بہادر سپاہیوں، افسران اور افواجِ پاکستان کی لازوال قربانیوں پر فخر کرتی ہے۔

شہباز شریف نے اس موقع پر اُن فوجی جوانوں اور افسران کو خصوصی خراجِ عقیدت پیش کیا جو عید کے دن بھی سرحدوں پر وطن کے دفاع کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قوم اپنے محافظوں کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔

وزیراعظم نے ملکی سلامتی، دہشتگردی کے خاتمے، قومی یکجہتی اور معاشی استحکام کے لیے بھی خصوصی دعا کی اور کہا کہ پاکستان کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پوری قوم کو متحد ہوکر آگے بڑھنا ہوگا۔

ذرائع کے مطابق عسکری قیادت نے بھی وزیراعظم کو عید کی مبارکباد دی اور ملک کی سلامتی و استحکام کے لیے اپنی مکمل وابستگی کا اعادہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے صدرِ مملکت، مختلف صوبوں کے گورنرز، وزرائے اعلیٰ، اسپیکر قومی اسمبلی اور متعدد سیاسی رہنماؤں سے بھی ٹیلیفونک گفتگو کی۔

جن سیاسی شخصیات سے وزیراعظم نے رابطہ کیا ان میں عبدالعلیم خان، خالد مگسی، آفتاب شیرپاؤ اور دیگر اہم رہنما شامل تھے۔ گفتگو کے دوران ملکی سیاسی صورتحال، قومی ہم آہنگی، وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون اور عوامی مسائل کے حل سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ وفاقی حکومت تمام صوبوں اور اکائیوں کے ساتھ مل کر عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی جبکہ ملکی ترقی اور خوشحالی کے لیے سیاسی استحکام ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ عیدالاضحیٰ ہمیں قربانی، ایثار، بھائی چارے اور اتحاد کا درس دیتی ہے، اور موجودہ حالات میں قومی یکجہتی پہلے سے زیادہ اہم ہوچکی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو امن، ترقی، خوشحالی اور استحکام عطا فرمائے جبکہ قوم کو اتحاد و اتفاق کی دولت سے مالا مال کرے۔

ادھر حکومتی حلقوں کے مطابق عید کے موقع پر وزیراعظم کے ان رابطوں کو سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان ہم آہنگی اور قومی معاملات پر مشترکہ سوچ کا اہم اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔