رانا ثنا اللہ کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حلقہ ایل اے 10 کوٹلی میں تعینات ایک پریزائیڈنگ افسر اور ایک پٹواری مبینہ طور پر پولنگ بیگز سمیت پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار چوہدری یاسین کی رہائش گاہ پر موجود تھے، جہاں انہیں مبینہ طور پر رنگے ہاتھوں پکڑا گیا،  اگر یہ دعویٰ درست ہے تو یہ معاملہ انتخابی شفافیت کے لیے انتہائی تشویشناک ہے اور اس کی فوری تحقیقات ناگزیر ہیں۔

انہوں نے وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر سے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث تمام افراد سے مکمل تفتیش کی جائے اور عوام کو بتایا جائے کہ سرکاری انتخابی سامان امیدوار کی رہائش گاہ تک کیسے پہنچا، جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہوتیں، حلقہ ایل اے 10 میں پولنگ یا انتخابی عمل کو روک دیا جانا چاہیے تاکہ شفاف انتخابات کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔

رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ متعلقہ پٹواری ثقلین اور دیگر ذمہ دار افراد سے بھی پوچھ گچھ کی جائے کہ آیا اس نوعیت کی مبینہ بے ضابطگیاں کسی اور مقام پر بھی کی گئی ہیں یا نہیں، معاملے کی مکمل چھان بین کے بغیر انتخابی نتائج پر اعتماد قائم نہیں ہو سکتا۔

وزیراعظم کے مشیر نے اپنے بیان میں کہا کہ چوہدری یاسین نہ صرف اس حلقے سے امیدوار ہیں بلکہ پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے صدر بھی ہیں، جبکہ آزاد کشمیر میں اسی جماعت کی حکومت قائم ہے، ایسے حالات میں سرکاری اہلکاروں کی مبینہ موجودگی نے انتخابی عمل کی غیرجانبداری پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ سرکاری وسائل اور اہلکاروں کا انتخابی عمل میں مبینہ استعمال جمہوری اصولوں اور انتخابی ضابطہ اخلاق کے منافی ہے، اس لیے الیکشن کمیشن کو فوری اور مؤثر کارروائی کرنی چاہیے تاکہ عوام کے اعتماد کو بحال رکھا جا سکے۔

رانا ثنا اللہ نے واضح کیا کہ اگر غیرجانبدار تحقیقات کے بغیر انتخابی عمل مکمل کیا گیا تو ان کی جماعت حلقہ ایل اے 10 کے نتائج کو تسلیم نہیں کرے گی،  شفاف، آزاد اور منصفانہ انتخابات ہی جمہوری نظام کی بنیاد ہیں اور کسی بھی قسم کی مبینہ دھاندلی یا بے ضابطگی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر انتخابات کا پہلا مرحلہ: میرپور ڈویژن کے 3 اضلاع میں پولنگ شروع

دوسری جانب آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے پہلے مرحلے کے انتخابات کے تحت میرپور ڈویژن کے اضلاع میرپور، کوٹلی اور بھمبر کے مجموعی طور پر 13 انتخابی حلقوں میں آج پولنگ ہو رہی ہے۔ الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق ووٹنگ کا عمل صبح 8 بجے شروع ہوا جو شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گا

تاحال الیکشن کمیشن یا متعلقہ حکام کی جانب سے رانا ثنا اللہ کے الزامات پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم سیاسی حلقوں کی نظریں اس معاملے کی ممکنہ تحقیقات اور انتخابی عمل پر اس کے اثرات پر مرکوز ہیں۔