نجی نشریاتی ادارے جیو نیوز کے مطابق سعدیہ جاوید نے کہا کہ کراچی ایک بڑا شہر ہے اور یہاں پولیس وسائل پہلے ہی محدود ہیں، انہی حالات کے پیشِ نظر ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں سے پولیس سکیورٹی واپس لی گئی ہو۔
انہوں نے واضح کیا کہ وہ خود بھی کسی سرکاری سکیورٹی کے بغیر ہیں، سندھ حکومت کے ایم پی ایز کے پاس بھی پولیس سکیورٹی موجود نہیں، اس لیے یہ تاثر دینا درست نہیں کہ کسی ایک جماعت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا، “میرے پاس بھی کوئی پولیس سکیورٹی نہیں ہے، سندھ کے حکومتی اراکین اسمبلی بھی بغیر سکیورٹی کے ہیں، اس لیے ایم کیو ایم کے رہنماؤں سے سکیورٹی واپسی کے پیچھے کوئی نہ کوئی انتظامی وجہ ضرور ہوگی۔”
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں ایم کیو ایم پاکستان کے اہم وزرا اور اراکین اسمبلی کی پولیس سکیورٹی واپس لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جس پر سیاسی حلقوں میں تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: گھریلو تشدد بل: بیوی کو گھورنا، طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی دینا قابلِ سزا جرم قرار
انہوں نے سندھ میں فارنزک لیب کے قیام سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ اب تک فارنزک لیب کا فعال نہ ہونا حکومت کی ایک کوتاہی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس کمی کو دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور توقع ہے کہ اس سال کے اختتام تک سندھ کی فارنزک لیب مکمل طور پر فعال ہو جائے گی، جس سے تفتیشی نظام میں بہتری آئے گی۔
گل پلازہ سے متاثرہ دکانداروں کی پر ترجمان سندھ حکومت نے بتایا کہ گل پلازہ کے سامنے موجود دو دیگر پلازوں میں متاثرہ تاجروں کو منتقل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پلازہ مالکان سے مسلسل رابطے میں ہے۔
ان کے مطابق ایک پلازہ میں تقریباً 500 جبکہ دوسرے پلازہ میں 350 دکانیں موجود ہیں، جہاں متاثرین کو عارضی طور پر شفٹ کیا جائے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گل پلازہ کو پہنچنے والے نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ یہ کمیٹی تین ہفتوں کے اندر اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کرے گی، جس کے بعد متاثرین کے نقصانات کے ازالے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔







