لاہور میں اعزازیہ کارڈ برائے امام صاحب پراجیکٹ کی لانچنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اعزازیہ کارڈ کے اجرا پر صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق، ہوم سیکرٹری احمد جاوید قاضی اور پوری ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے۔ آئمہ کرام قابلِ احترام ہیں، یہاں تک کہ معاشرتی تنازعات میں بھی لوگ کہتے ہیں کہ امام مسجد سے فیصلہ کرا لیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ سن کر دکھ ہوتا ہے کہ علما کرام کی تنخواہ کے لیے ہر ماہ چندے کی آواز لگائی جاتی ہے، جس سے بمشکل پانچ سے دس ہزار روپے جمع ہوتے ہیں۔ علما کرام دین کا روشن چہرہ ہیں اور ان کے لیے اس طرح خرچ اکٹھا کرنا افسوسناک ہے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ 2026 میں بھی کئی مساجد کے آئمہ کو صرف پانچ ہزار روپے دیے جانا انتہائی تشویشناک ہے، جب کہ امام مسجد کو بھی عام انسان کی طرح گھریلو اور دیگر ضروری اخراجات کا سامنا ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب آئمہ کرام کو 15 ہزار روپے دینے کا فیصلہ کیا گیا تو نواز شریف نے کم از کم 25 ہزار روپے کرنے کی ہدایت کی۔ اگر تھوڑی سی رقم سے آئمہ کرام کی زندگی میں آسودگی آ سکتی ہے تو اس سے بڑی خوشی کوئی نہیں۔ معاشرے میں آئمہ کرام کو ان کا جائز مقام نہ دینا افسوسناک ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ اعزازیہ پروگرام کے آغاز پر منفی پروپیگنڈا کیا گیا، تاہم آئمہ کرام کی جانب سے مثبت ردعمل سامنے آیا۔ پنجاب میں تقریباً 80 ہزار مساجد ہیں، جن میں سے 70 ہزار مساجد سے مثبت جواب موصول ہوا ہے، جب کہ رجسٹریشن کا عمل تاحال جاری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس ماہ آئمہ کرام کو پے آرڈر کے ذریعے ادائیگی کی جائے گی، جب کہ آئندہ ماہ سے مستقل بنیادوں پر اعزازیہ کارڈ کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگی ہوگی، جس کا مقصد شفافیت اور سہولت فراہم کرنا ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ 25 ہزار روپے کوئی بڑی رقم نہیں اور انہوں نے میڈیا کے ذریعے مساجد کی انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ بھی آئمہ کرام کی باقاعدہ معاونت جاری رکھیں۔ آئمہ کرام حکمرانوں اور عوام دونوں کی تربیت کرتے ہیں اور حقوق اللہ سے بہتر طور پر واقف ہوتے ہیں، جب کہ یہ اعزازیہ ایک حقیر سا نذرانہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اور آئمہ کرام کے درمیان قریبی رابطہ ہونا چاہیے کیونکہ حکومتی امور میں بہتری کے لیے علما کی مشاورت ضروری ہے۔ اگر آئمہ کرام کو بیماری، بچوں کی فیس یا کوئی اور مسئلہ درپیش ہو تو حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ لوگ نماز پڑھنے والے امام کی بات سنتے ہیں، اس لیے وہ حکومت کی آواز کو عوام تک پہنچائیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ پاکستان واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر قائم ہوا، اور امن و آشتی کے فروغ کے لیے حکومتی آواز کو آئمہ کرام کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق اقلیتوں کو بے خوف زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔

انہوں نے حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی غیر مسلم پر ظلم کرے گا تو نبی کریم ﷺ قیامت کے دن اس کے وکیل ہوں گے۔ کسی بھی مذہب کو برا کہنے سے منع کیا گیا ہے تاکہ کوئی تمہارے مذہب کو برا نہ کہے۔ معاشرے میں امن قائم کرنے کے لیے مذہبی منافرت اور تقسیم کا خاتمہ علما کی بڑی ذمہ داری ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ بعض عناصر مذہب کے نام پر فتنہ پھیلاتے رہے، جس کے نتیجے میں پولیس اور رینجرز کے جوان شہید ہوئے، سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا اور عوام کا روزگار متاثر ہوا۔

انہوں نے واضح کیا کہ لوگوں کی زندگی اجیرن کرنا اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا فتنہ ہے اور دین کے نام پر ایسا کرنا امانت میں خیانت کے مترادف ہے۔ ظلم اور زیادتی کسی بھی شکل میں برداشت نہیں کی جائے گی اور ریاست اپنے شہدا کے خون کا حساب لے گی۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب سے ڈالہ کلچر، خواتین و بچوں کی بے حرمتی اور دن دیہاڑے قتل کا خاتمہ کیا گیا ہے، اور صوبے میں کسی فتنے کو پنپنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ پنجاب کی سرزمین فتنہ، ظلم اور مافیا کے لیے تنگ کر دی گئی ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ معاشرے کی اصلاح ایک دینی فریضہ ہے، آئمہ کرام لوگوں کو دین کی تعلیم کی طرف لاتے ہیں، جب کہ ملک و قوم کی خدمت صرف حکومت نہیں بلکہ ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے ٹریفک قوانین، ہیلمٹ کے استعمال، منشیات، جرائم کے خاتمے اور قانون کے احترام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ہر جگہ نہیں پہنچ سکتی، مگر امام مسجد کی آواز ہر جگہ پہنچتی ہے۔ امام مسجد کے لیے اعزازیہ کارڈ صرف آغاز ہے اور حکومت آئمہ کرام کی خدمت کو مزید وسعت دینا چاہتی ہے۔