مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کی قیادت نے منگل کے روز پاکستان پیپلز پارٹی کے قانون سازوں کی موجودگی میں وزیرِاعظم چوہدری انوارالحق کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لانے کے لیے تحریکِ پر دستخط کیے۔

مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر اور پارٹی کے سینئر رہنما راجہ فاروق حیدر نے اسلام آباد کشمیر ہاؤس میں تحریک عدم اعتماد پر دستخط کیے۔اس موقع پر پیپلز پارٹی کے رہنما چوہدری ریاض اور فیصل ممتاز راٹھور بھی موجود تھے۔

مختلف سیاسی جماعتوں کے ذرائع کے مطابق، تحریک پر دستخط کے بعد آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی سیکرٹریٹ میں تحریک باضابطہ طور پر جمع کرائی جائے گی۔

یہ پیش رفت ایوانِ صدر میں گزشتہ رات ہونے والے ایک اہم اجلاس کے بعد سامنے آئی، جس کی صدارت صدر آصف علی زرداری نے کی۔

اجلاس میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال، شاہ غلام قادر، امیر مقام، رانا ثناء اللہ، قمر زمان کائرہ اور پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے صدر چوہدری یٰسین شریک ہوئے۔

ذرائع کے مطابق ملاقات میں مسلم لیگ (ن) نے وزیرِاعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کی حمایت پر اتفاق کیا گیا، تاہم وزیرِاعظم کے انتخاب میں پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار کو ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

پیپلز پارٹی کی قیادت کی جانب سے فیصلہ کیا گیا کہ چودھری یاسین کو آزاد کشمیر کا نیا وزیراعظم بنایا جائے گا، جب کہ ن لیگ قیادت نے واضح کیا کہ وہ اس کے بجائے اپوزیشن بنچوں پر بیٹھے گی۔

مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر نے کہا،ہم جولائی 2026 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے خلاف الیکشن لڑنے کے لیے اپوزیشن میں بیٹھیں گے۔

اُن کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے وزیرِاعظم کااقتدار میں ساتھ دینا یا ووٹ دینا آئندہ انتخابات میں ہمارے لیے نقصان دہ ہوگا۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ مسلم لیگ (ن) کا تعاون صرف اور صرف چوہدری انوار الحق کو منصب سے ہٹانے تک محدود ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حمایت کے بعد 52 رکنی آزاد جموں و کشمیر اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی تعداد 27 سے بڑھ کر 36 تک پہنچ گئی ہےاور ممکنہ طور پر یہ تعداد 40 سے تجاوز کر سکتی ہے، جو تحریکِ عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے کافی سمجھی جا رہی ہے۔

دوسری جانب وزیرِاعظم چوہدری انوار الحق نے پیر اور منگل کے روز اپنی رہائش گاہ پر قیام کرتے ہوئے مختلف سرکاری محکموں میں ترقیوں سے متعلق درجنوں نوٹیفکیشنز پر دستخط کیے۔

وہ اپنی رہائش گاہ کے سرسبز صحن میں عہدیداروں سے ملاقات کے دوران پُر اعتماد نظر آئے۔

تاہم، وزیرِاعظم نے استعفیٰ دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایوان میں تحریکِ عدم اعتماد کا سامنا کریں گے۔

انہوں نے کسی پارٹی کا نام لیے بغیر کہاکہ جس کے پاس 27 ارکان کی حمایت ہے، وہ سامنے آئے اور تحریک پیش کرے۔

واضح رہے کہ یہ تحریکِ عدم اعتمادستمبر میں آزاد جموں و کشمیر میں ہونے والے پرتشدد واقعات کی وجہ سے لائی جا رہی ہے، اِن مظاہروں میں کم از کم دس افراد جاں بحق اور کئی زخمی ہوئے تھے۔