این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں میں متوقع بارشوں کے باعث گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا، آزاد جموں و کشمیر، پنجاب اور پوٹھوہار کے علاقوں میں اچانک سیلاب کا خدشہ ہے، جب کہ دریاؤں، ندی نالوں اور برساتی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔
کہاں خطرہ ہے؟
گلگت بلتستان میں گلگت، دیامر، غذر، ہنزہ، اسکردو، استور اور شگر کے علاقوں کو ممکنہ اچانک سیلاب کے حوالے سے خطرے سے دوچار قرار دیا گیا ہے۔
خیبر پختونخوا میں چترال، دیر، سوات، باجوڑ، شانگلہ، بٹگرام، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، نوشہرہ، صوابی اور مردان میں بھی ممکنہ سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
این ڈی ایم اے نے آزاد جموں و کشمیر کے اضلاع باغ، پونچھ، مظفرآباد، حویلی، بھمبر، سدھنوتی، میرپور اور کوٹلی میں بھی بارشوں کے باعث سیلاب کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔
پوٹھوہار کے خطے میں اسلام آباد، راولپنڈی، اٹک، چکوال اور جہلم ممکنہ طور پر متاثر ہوسکتے ہیں، جبکہ ان علاقوں کے ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا بھی امکان ہے۔
پنجاب کے متعدد علاقوں کو بھی الرٹ کیا گیا ہے، جن میں لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، گجرات، شیخوپورہ، نارووال، قصور، اوکاڑہ، منڈی بہاؤالدین، وزیرآباد، حافظ آباد اور سرگودھا شامل ہیں۔
اتھارٹی نے بالخصوص نوشہرہ، صوابی، مردان اور ملحقہ علاقوں کے نشیبی اور شہری علاقوں میں رہنے والے افراد کو ممکنہ سیلاب کے خطرے کے پیش نظر محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔
این ڈی ایم اے نے مقامی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ خطرے سے دوچار علاقوں میں ضروری وسائل پہلے سے دستیاب رکھے جائیں اور صورتحال سنگین ہونے کی صورت میں شہریوں کے محفوظ انخلا کے لیے انتظامات مکمل رکھے جائیں۔
اتھارٹی نے عوام کو زیرِ آب سڑکوں، پلوں، ندی نالوں اور تیز بہاؤ والے پانی کو عبور کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ متعلقہ حکام کی جانب سے جاری ٹریفک اور حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
سیلاب کے خطرے سے دوچار علاقوں کے رہائشیوں، سیاحوں اور مسافروں کو دریاؤں، ندی نالوں اور برساتی نالوں کے قریب جانے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق مون سون کے دوران بالخصوص پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ، ملبے کے بہاؤ اور اچانک سیلاب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، اس لیے ایسے علاقوں میں غیر معمولی احتیاط کی ضرورت ہے۔
مسافروں کو سفر سے قبل موسم کی تازہ ترین پیش گوئی اور سڑکوں کی صورتحال جانچنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ شدید بارش یا دیگر خطرات کی پیش گوئی کی صورت میں غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
این ڈی ایم اے نے واضح کیا ہے کہ سیلابی یا تیز بہتے پانی کو پیدل یا گاڑی کے ذریعے ہرگز عبور نہ کیا جائے، کیونکہ بظاہر کم گہرائی والا پانی بھی انسانوں اور گاڑیوں کو بہا لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اتھارٹی نے سیاحوں اور دیگر افراد کو موسمی ندی نالوں کے اطراف خاص احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ مون سون کی بارشوں کے دوران ان میں پانی کی سطح اچانک اور تیزی سے بلند ہوسکتی ہے۔
این ڈی ایم اے نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں، متعلقہ اداروں کی ہدایات پر عمل کریں اور حفاظتی وجوہات کی بنا پر بند کی گئی سڑکوں پر سفر سے گریز کریں۔







