وزیراعظم شہباز شریف کرغزستان کے صدر صادر نگوژوئچ جپاروف کی خصوصی دعوت پر 31 اگست سے 2 ستمبر تک کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک کا دورہ کر رہے ہیں۔
وزیراعظم کے اس دورے کو پاکستان کی خارجہ پالیسی، علاقائی روابط اور اقتصادی تعاون کے حوالے سے اہم قرار دیا جارہا ہے، جبکہ دورے کے دوران پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کی کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی صدارت بھی سنبھالے گا۔
دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف ایس سی او کے مرکزی سربراہی اجلاس کے علاوہ ایس سی او پلس سمٹ میں بھی شرکت کریں گے، جہاں رکن ممالک اور دیگر شریک ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال ہوگا۔
وزیراعظم کے دورۂ کرغزستان کی اہم پیش رفت یہ ہوگی کہ پاکستان سال 2026-2027 کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کی کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی صدارت سنبھالے گا۔
پاکستان کی صدارت کے دوران تنظیم کے پلیٹ فارم پر علاقائی تعاون، اقتصادی روابط، تجارت، سرمایہ کاری، ٹرانسپورٹ اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید آگے بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔
اگلے سال ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کا سربراہی اجلاس پاکستان میں منعقد ہوگا، جس کی میزبانی اسلام آباد کرے گا۔
حکام کے مطابق پاکستان کیلئے ایس سی او کی صدارت ایک اہم سفارتی موقع ہے، جس کے ذریعے اسلام آباد علاقائی اقتصادی روابط اور باہمی تجارت کے فروغ کیلئے اپنی ترجیحات کو مؤثر انداز میں اجاگر کرسکتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ اعلیٰ سطحی وفد بھی کرغزستان گیا ہے۔
وفد میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر مواصلات عبدالعلیم خان اور وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ سمیت دیگر اعلیٰ حکام شامل ہیں۔
دورے کے دوران پاکستانی وفد کی جانب سے مختلف ممالک کے نمائندوں کے ساتھ دوطرفہ اور کثیرالجہتی رابطے کیے جانے کا امکان ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی مختلف عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں، جن میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی صورتحال اور اقتصادی تعاون سمیت متعدد معاملات زیر بحث آئیں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف اپنے دورۂ کرغزستان کے پہلے روز ورلڈ نومیڈ گیمز کی افتتاحی تقریب میں شرکت کریں گے۔
ورلڈ نومیڈ گیمز روایتی کھیلوں اور ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے والا بین الاقوامی ایونٹ ہے، جس میں مختلف ممالک کے کھلاڑی اور وفود شرکت کرتے ہیں۔
وزیراعظم کی جانب سے ایونٹ میں شرکت پاکستان اور کرغزستان کے درمیان ثقافتی اور عوامی سطح کے روابط کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش کی عکاسی کرتی ہے۔
دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کرغزستان کے صدر صادر نگوژوئچ جپاروف سے بھی ملاقات کریں گے۔
دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور کرغزستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مختلف جہتوں کا جائزہ لیا جائے گا۔
دونوں رہنما تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، علاقائی رابطوں، تعلیم، سیاحت اور عوامی روابط کے فروغ سمیت اہم امور پر بات چیت کریں گے۔
ملاقات میں خطے کی مجموعی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے علاقائی و عالمی معاملات بھی زیر بحث آنے کا امکان ہے، جبکہ بین الاقوامی اور علاقائی فورمز پر دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کے طریقوں پر بھی غور کیا جائے گا۔
پاکستان اور کرغزستان کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعاون بڑھانے کیلئے علاقائی رابطوں کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔
پاکستان وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارت اور ٹرانسپورٹ روابط بڑھانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جبکہ کرغزستان بھی پاکستان کو خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ جوڑنے والے اہم شراکت داروں میں شمار ہوتا ہے۔
وزیراعظم کے دورے میں کنیکٹیویٹی، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کے امکانات کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔
حکام کے مطابق وسطی ایشیا اور پاکستان کے درمیان بہتر زمینی و تجارتی روابط دونوں خطوں کیلئے نئے معاشی مواقع پیدا کرسکتے ہیں۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اور کرغزستان کے تعلقات مشترکہ تاریخ، مذہبی و ثقافتی ہم آہنگی اور باہمی احترام پر مبنی ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان سیاسی سطح پر بھی اعلیٰ سطحی رابطے جاری رہے ہیں، جبکہ حالیہ برسوں میں تجارت، تعلیم، سیاحت اور عوامی روابط کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر توجہ دی گئی ہے۔
وزیراعظم کا موجودہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی خیرسگالی کو مزید مضبوط بنانے اور اسے عملی معاشی تعاون میں تبدیل کرنے کے حوالے سے اہم موقع قرار دیا جارہا ہے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے قیام کو 25 سال مکمل ہوچکے ہیں اور تنظیم میں اس وقت 10 مستقل رکن ممالک شامل ہیں۔
ان ممالک میں پاکستان، چین، روس، بھارت، ایران، کرغزستان، بیلاروس، قازقستان، تاجکستان اور ازبکستان شامل ہیں۔
ایس سی او کا پلیٹ فارم خطے کے اہم ممالک کو سیاسی، اقتصادی، سیکیورٹی اور علاقائی تعاون کے مختلف معاملات پر مشترکہ گفتگو کا موقع فراہم کرتا ہے۔
بشکیک میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں رکن ممالک کے رہنما علاقائی امن و استحکام، اقتصادی تعاون، تجارت، سیکیورٹی، رابطہ کاری اور عالمی صورتحال سمیت مختلف اہم معاملات پر تبادلہ خیال کریں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف اجلاس میں پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے اور خطے میں امن، ترقی، باہمی تجارت اور اقتصادی تعاون کے حوالے س







