اپنے ویڈیو بیان میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سوشل میڈیا نے ان کی بات پکی کرنے کے ساتھ ساتھ منگنی اور شادی بھی کروا دی ہے، تاہم ایسا کچھ نہیں ہوا۔ انہوں نے واضح کیا کہ نہ ان کی منگنی ہوئی ہے اور نہ ہی شادی ہوئی ہے، جب کہ وہ کسی شہزادی گلوریا کو بھی نہیں جانتے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر چلنے والا یہ تماشا عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دارالحکومت میں سانحہ پمز کے دوران 14 بچے جاں بحق ہوئے، لیکن اس اہم معاملے کے بجائے سوشل میڈیا پر ان کی منگنی اور شادی کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے ایک وفاقی وزیر کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک وزیر پاکستان کا گورباچوف بننا چاہتا ہے اور ملک کے 30 ٹکڑے کرنا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو وزیر ایک اسپتال نہیں سنبھال سکتا، وہ لاہور کے کاروباری افراد سے کہہ رہا ہے کہ صوبے بناؤ اور انہیں چلاؤ۔
بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ یہ بات ایسے وقت میں کی جا رہی ہے جب سندھ اسمبلی اس معاملے پر ایک جرات مندانہ موقف اختیار کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل سوشل میڈیا اور مختلف ذرائع ابلاغ پر یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور صدر مملکت آصف علی زرداری، بلاول بھٹو کی ممکنہ منگنی کے سلسلے میں ایک آسٹرین خاندان سے بات چیت کے لیے ویانا میں موجود ہیں۔
گردش کرنے والی خبروں میں بلاول بھٹو زرداری کی ممکنہ دلہن کو آسٹریا کے سابق شاہی خاندان ’ہاؤس آف ہیبسبرگ-لورین‘ سے منسوب کیا جا رہا تھا، جب کہ بعض رپورٹس میں انہیں آسٹریا کے آخری شہنشاہ کارل اول کے خاندان سے تعلق رکھنے والی خاتون بھی قرار دیا گیا تھا۔
تاہم بلاول بھٹو زرداری کے تازہ ویڈیو بیان کے بعد ان کی منگنی اور شادی سے متعلق یہ تمام قیاس آرائیاں مسترد ہوگئی ہیں۔







