ان درخواستوں میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی طرح پرائیویٹ اسپتال میں علاج کی سہولت مانگی گئی ۔ یہ تینوں قیدی اڈیالہ جیل میں اپنی سزائیں کاٹ رہے ہیں۔

نجی ٹی وی ’ایکسپریس نیوز‘  کی رپورٹ کے مطابق اڈیالہ جیل میں قید تین ملزمان کے پرائیوٹ اسپتال میں علاج کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت کے دوران وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کا 18 اگست کا آرڈر آج تک برقرار ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ عدالت سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کی پابند ہے۔ سپریم کورٹ نے تو بانی پی ٹی آئی کی بہن ڈاکٹر عظمی خان کو میڈیکل بورڈ کے ساتھ ایسوسی ایٹ کیا۔ سپریم کورٹ نے نجی اسپتال کے اخراجات قیدی کو برداشت کرنے کا کہا۔

وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ نے جو ریلیف دیا وہ ایک عام قیدی کو کیوں نہیں دیا جاسکتا؟

اسلام آباد اور پنجاب کے ایڈوکیٹ جنرل نے قیدیوں کے نجی اسپتال سے علاج کی مخالفت کی۔ جسٹس محمد آصف نے ریمارکس دیے اگر کسی قیدی کو بیماری لاحق ہو جائے تو کیا کریں گے؟ قیدی کی بیماری سے آپ نہیں کھیل سکتے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محمد آصف نے اڈیالہ جیل کے دو انڈر ٹرائل اور ایک سزا یافتہ قیدی کی بانی پی ٹی آئی کی طرح نجی اسپتال سے علاج کے لیے دائر درخواستوں پر سماعت کی۔

اویس الطاف، الیاس خان اور محمد اسماعیل نامی قیدیوں نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا ایک قیدی انٹرنل بلیڈنگ کا شکار ہے، یہ تھیلیسیمیا کی ہی قسم ہے۔ یہ مریض گزشتہ 6 ماہ سے جیل میں ہے جسے متعدد بار علاج کے لئے اسپتال لایا گیا۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ بڑی آنت میں انٹرنل بلیڈنگ ہورہی ہے جس سے جان کو خطرہ ہے، اس صورتحال میں مناسب طبی سہولیات ملنی چاہئیں ورنہ جیل حکام ذمہ دار ہوں گے۔

وکیل نے بانی پی ٹی آئی کے کیس کا حوالہ دے کر کہا سپریم کورٹ کا 18 اگست کا آرڈر بھی موجود ہے۔ یہ انڈر ٹرائل قیدی کا کیس ہے۔ سپریم کورٹ نے تو سزا یافتہ قیدی کے کیس میں یہ ریلیف دیا ہے۔ 

درخواست گزار کے وکیل نے کہا قیدی نے جیل حکام کو علاج کی درخواست دی، سپرنٹنڈنٹ جیل نے کہا رولز کے مطابق قیدی کو صرف سرکاری اسپتال منتقل کیا جاسکتا ہے۔ رولز میں سول اسپتال کا لفظ لکھا ہوا ہے۔ برٹش رول کے دوران پہلی بار سول اسپتال اور ملٹری اسپتال کی ٹرم متعارف کرائی گئی۔ 

ایک اور درخواست گزار قیدی کے وکیل ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ انڈر ٹرائل قیدی دل کے عارضے میں مبتلا اور 6 ماہ سے اڈیالہ جیل میں قید ہے، اس کے جسم کا نچلا حصہ کام نہیں کررہا حتیٰ کہ وہ چلنے کے بھی قابل نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے ہماری علاج کی درخواست ڈاکٹر کی مشاورت کے بغیر ہی مسترد کردی۔ عدالت نے پوچھا کیا جیل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر بھی ہیں وکیل نے جواب دیا ہوسکتا ہے جیل سپرنٹنڈنٹ نے تعلیم حاصل کی ہو۔